World
عمان کے ساحل پر روسی آئل ٹینکر سے تیل کا رساؤ
روسی خام تیل لے جانے والے ایک بحری جہاز کے عمان کے ساحل پر پھنس جانے کے بعد سمندر میں تیل کا بڑا ذخیرہ پھیل گیا ہے۔ اس واقعے سے ماحولیاتی آلودگی کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں جس پر حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عمان کے ساحلی علاقوں میں ماحولیاتی بحران اس وقت پیدا ہو گیا جب روسی پابندیوں والی خام تیل لے جانے والے ایک بحری جہاز 'کیرولین بیزنگی' سے تیل کا اخراج شروع ہو گیا اور یہ سمندری لہروں کے ساتھ عمان کے ساحل تک پہنچ گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ ٹینکر کئی ہفتے قبل عمان کے سمندری حدود میں گہرے پانیوں میں پھنس گیا تھا۔ حکام کی جانب سے فوری طور پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ تیل کے اس وسیع پھیلاؤ کو روکا جا سکے، تاہم موسم کی خرابی اور تکنیکی مشکلات کے باعث یہ کام انتہائی دشوار ثابت ہو رہا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ تیل کا یہ رساؤ عمان کے ساحلی علاقوں میں سمندری حیات اور حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ سمندر میں تیل کی تہہ پھیلنے سے مقامی مچھلیوں، پرندوں اور دیگر آبی جانوروں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے، جس کے طویل مدتی اثرات مقامی ماہی گیری کی صنعت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ عمان کے ماحولیاتی تحفظ کے محکمے نے ساحلی علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا ہے اور مقامی آبادی کو ساحل کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ٹینکر روسی خام تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہا تھا جس پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔ جہاز کے پھنسنے کے بعد سے ہی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ اگر ٹینکوں میں موجود تیل سمندر میں خارج ہو گیا تو ایک بڑا ماحولیاتی سانحہ جنم لے سکتا ہے۔ اب جب کہ تیل ساحل تک پہنچ چکا ہے، عالمی برادری اور ماحولیاتی تنظیموں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے عمان کو تکنیکی اور امدادی وسائل فراہم کریں۔
حکومتی ترجمان کے مطابق، صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک ہنگامی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جو تیل کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے کیمیکلز اور خصوصی آلات کا استعمال کر رہی ہے۔ تاہم، اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر پابندیوں والے تیل کی نقل و حمل اور اس کے ممکنہ خطرات پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عمان کے ساحل کی صفائی کا عمل کتنی کامیابی سے مکمل ہوتا ہے اور آیا یہ حادثہ کسی بڑی بین الاقوامی پالیسی تبدیلی کا باعث بنتا ہے یا نہیں۔