LIVE
Loading Breaking News...

کراچی میں ہوائی فائرنگ سے 86 افراد زخمی، یومِ آزادی کے موقع پر افسوسناک واقعات

News Image
کراچی میں یومِ آزادی کی رات ہوائی فائرنگ کے واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت 86 افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد ملزمان کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔
کراچی میں یومِ آزادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کا خونی کھیل ایک بار پھر کھیلا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 86 افراد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں میں 59 مرد، 10 خواتین اور 17 بچے شامل ہیں۔ شہر کے مختلف ہسپتالوں میں لائے جانے والے زخمیوں کی بڑی تعداد اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ حکومتی پابندیوں کے باوجود شہری ہوائی فائرنگ جیسے خطرناک فعل سے باز نہیں آئے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق عباسی شہید ہسپتال میں 24، جناح ہسپتال میں 35 جبکہ سول ہسپتال میں 26 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے لایا گیا، جبکہ ایک خاتون کو نجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ فائرنگ کے یہ واقعات شہر کے مختلف علاقوں بشمول لیاری، صدر، کورنگی، ملیر، عزیز آباد، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، گل بہار، گلشن اقبال، اورنگی ٹاؤن، جمشید کوارٹرز اور ڈیفنس میں پیش آئے۔ اس صورتحال پر ضلعی پولیس نے سخت ایکشن لیتے ہوئے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔ کراچی کے ایسٹ زون کی پولیس نے ہوائی فائرنگ میں ملوث 10 ملزمان کو گرفتار کیا جن کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ یہ گرفتاریاں گلشن اقبال، شاہراہ فیصل، سچل، گلستانِ جوہر اور سائٹ سپر ہائی وے کے علاقوں میں کی گئیں۔ اسی طرح ویسٹ زون کی پولیس نے بھی کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یومِ آزادی اور نئے سال کے موقع پر ہوائی فائرنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ کراچی میں ہر سال یومِ آزادی اور دیگر قومی تہواروں کے موقع پر ہوائی فائرنگ معمول بن چکا ہے، حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش اور ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی عائد ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات نے کئی خاندانوں کی خوشیاں غم میں تبدیل کی ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی یومِ آزادی کے موقع پر اسی طرح کی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں ایک کمسن بچی سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس طرزِ عمل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف محض گرفتاری کافی نہیں بلکہ سخت ترین قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔