LIVE
Loading Breaking News...

سابقہ اہلیہ کی جانب سے اے آئی کے ذریعے دھوکہ دہی، غلام رسول انڑ عدالت پہنچ گئے

News Image
سندھ کے سابق وزیر غلام رسول انڑ نے اپنی سابقہ اہلیہ پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے تصویریں تبدیل کرکے دھوکا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ عدالت نے درخواست پر ایس ایس پی کمپلینٹ سیل اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
کراچی میں ایک دلچسپ اور تشویشناک قانونی معاملہ سامنے آیا ہے جس میں سندھ کے سابق صوبائی وزیر غلام رسول انڑ نے اپنی سابقہ اہلیہ کے خلاف آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے غلط استعمال اور دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرانے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ غلام رسول انڑ کا مؤقف ہے کہ ان کی سابقہ اہلیہ رضیہ ارباب نے شادی سے قبل انہیں جو تصاویر بھیجی تھیں، وہ حقیقی نہیں تھیں بلکہ انہیں اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تبدیل اور ایڈٹ کیا گیا تھا تاکہ ان کی اصل شناخت چھپائی جا سکے۔ درخواست گزار کے مطابق ان کی بات چیت سوشل میڈیا کے ذریعے شروع ہوئی اور بعد ازاں ویڈیو کال پر نکاح ہوا۔ غلام رسول انڑ نے عدالت کو بتایا کہ نکاح کے وقت اہلیہ نے نقاب پہن رکھا تھا جس کی وجہ سے وہ ان کا چہرہ نہیں دیکھ سکے تھے۔ تاہم شادی کے بعد جب وہ اپنی اہلیہ سے بالمشافہ ملے تو انہیں شدید دھچکا لگا کہ انہیں حقیقت سے دور رکھا گیا تھا اور دھوکے کے ذریعے شادی کی گئی تھی۔ سابق وزیر نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اس انکشاف کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ سے علیحدگی اختیار کر لی اور بعد میں طلاق بھی دے دی، لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ ان کا الزام ہے کہ طلاق کے بعد ان کی سابقہ اہلیہ نے سوشل میڈیا پر ان کی موت کی جھوٹی خبریں پھیلانا شروع کر دیں اور ان کی نجی تصاویر کو ایڈٹ کرکے سوشل میڈیا پر جاری کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔ غلام رسول انڑ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی سابقہ اہلیہ مبینہ طور پر ان سے بھاری رقم کا مطالبہ کر رہی ہے اور واٹس ایپ کے ذریعے نازیبا پیغامات اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ تمام حرکات پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔ عدالت نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد ڈیفنس تھانے کے ایس ایچ او، ایس ایس پی کمپلینٹ سیل اور ملزمہ کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور انہیں 17 اگست تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ کیس جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے حوالے سے ایک اہم عدالتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے جس پر عوامی حلقوں میں بھی گہری دلچسپی لی جا رہی ہے۔