World
شیر اور چیتا کی افزائش نسل: کیا یہ ممکن ہے؟
قدرتی طور پر شیر اور چیتا کے درمیان افزائش نسل ممکن نہیں ہے کیونکہ ان دونوں جانوروں کی جینیاتی ساخت میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ ماہرینِ حیوانات کے مطابق ان کی مخلوط نسل کا کوئی وجود ممکن نہیں ہے۔
شیر اور چیتا کے مابین افزائشِ نسل کا سوال اکثر جنگلی حیات کے شوقین افراد کے ذہنوں میں ابھرتا رہتا ہے، تاہم سائنسی نقطہ نظر سے اس کا جواب واضح طور پر 'نہیں' ہے۔ ماہرینِ حیوانات اور جینیاتی سائنسدانوں کے مطابق شیر اور چیتا دو بالکل مختلف اقسام کے بڑے بلے (Big Cats) ہیں، جن کی جینیاتی ساخت میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ اس لیے فطری ماحول یا مصنوعی مداخلت کے باوجود ان کے درمیان افزائشِ نسل کا عمل ممکن نہیں ہے اور نہ ہی ان سے کوئی جاندار اولاد پیدا ہو سکتی ہے۔
حیاتیاتی طور پر شیر (Panthera leo) اور چیتا (Acinonyx jubatus) کا تعلق مختلف سائنسی جینس (Genus) سے ہے۔ شیروں کا تعلق 'پینتھرا' (Panthera) خاندان سے ہے جبکہ چیتے 'ایکینوینیکس' (Acinonyx) جینس میں آتے ہیں۔ جینیاتی فرق کے علاوہ ان جانوروں کے کروموسومز کی تعداد اور ترتیب بھی ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتی، جو کہ کامیاب افزائشِ نسل کے لیے سب سے بنیادی شرط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فطرت میں یہ دونوں جانور نہ صرف ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہتے ہیں بلکہ ان کے تولیدی نظام بھی مکمل طور پر مختلف ہیں۔
کئی بار لوگ انٹرنیٹ پر موجود فرضی تصویروں یا ویڈیوز کی وجہ سے বিভ্রান্ত ہوتے ہیں، لیکن یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ایسی تصاویر اکثر فوٹوشاپ یا ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اگرچہ شیروں کے ساتھ دیگر قریبی رشتہ دار اقسام جیسے شیرنی اور شیر (ٹائیگر) کے ملاپ سے 'لائیگر' (Liger) جیسے جانور پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن شیر اور چیتا کا جینیاتی فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ ان کے مابین ایسا کوئی بھی تعلق ناممکن ہے۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر جنگلی جانور کی اپنی ایک منفرد حیاتیاتی شناخت ہوتی ہے۔ فطرت نے ہر نوع کو اپنی بقا کے لیے مخصوص جینیاتی کوڈز کے ساتھ تیار کیا ہے۔ شیر اور چیتا کا ایک دوسرے سے الگ رہنا اور افزائش نہ کر سکنا ہی ان کی اپنی اپنی نوع کی بقا اور صحت مند ارتقا کے لیے ناگزیر ہے۔ اس لیے اس طرح کی افواہوں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے اور ہمیں جنگلی حیات کے حوالے سے صرف مستند سائنسی معلومات پر ہی انحصار کرنا چاہیے۔