LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کے بیرونی و داخلی قرضوں میں نمایاں کمی: معاشی استحکام کی نوید

News Image
وفاقی حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے قومی قرضوں کی شرح نمو کو گزشتہ دو دہائیوں کی نچلی ترین سطح پر لا کر اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔ عالمی اداروں نے بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات اور مالی خسارے میں کمی کے رجحان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
پاکستان کی معاشی صورتحال کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں حکومت کے اقتصادی مشیروں نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے مجموعی قرضوں کی شرح نمو گزشتہ 20 سالوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ یہ کامیابی ایک ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے جب ملک مشکل مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق مالی نظم و ضبط کے سخت اقدامات اور غیر ضروری اخراجات میں کمی نے اس ہدف کے حصول میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں کی نمو میں یہ کمی ملکی معیشت کے استحکام کی جانب ایک مثبت قدم ہے جو مستقبل میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد دے گا۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے طے کردہ بنیادی سرپلس کے اہداف کو بھی عبور کر لیا ہے، جو کہ پاکستان کی مالیاتی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی ضروری تھا۔ اس پیشرفت کے بعد عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی 'ایس اینڈ پی' (S&P) نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر پاکستان مالی خسارے کو جی ڈی پی کے 3 فیصد سے نیچے رکھنے اور قرضوں کو 60 فیصد سے کم کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو ملکی ریٹنگ میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔ یہ ریٹنگ ملکی معیشت کو عالمی منڈیوں میں مزید مستحکم اور قابلِ اعتماد بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ کرنسی مارکیٹ پر نظر ڈالی جائے تو وہاں بھی کچھ بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خرید و فروخت کے ریٹس میں استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے، جو کہ حکومت کی جانب سے ایکسچینج ریٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ تاہم، ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ اور بیرونی سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے۔ حکومت کو اب اپنی توجہ صنعتی ترقی اور زراعت کے شعبوں پر مرکوز کرنی ہوگی تاکہ قرضوں پر انحصار کو مزید کم کیا جا سکے اور معیشت کو حقیقی معنوں میں خود کفیل بنایا جا سکے۔