Business
پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کی ٹوکنائزیشن اور ڈیجیٹل اثاثوں پر اہم پیش رفت
پاکستان کی وفاقی حکومت معاشی اصلاحات کے تحت رئیل اسٹیٹ اور سرمایہ کاری کے دیگر اثاثوں کو ٹوکنائز کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
وفاقی حکومت نے پاکستان میں معاشی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ سمیت دیگر اثاثوں کی 'ٹوکنائزیشن' کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی چیئرپرسن پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ڈاکٹر سہیل منیر کے ساتھ ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں ڈیجیٹل اثاثوں کے فروغ اور ان کی قانونی فریم ورکنگ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹوکنائزیشن کا یہ عمل رئیل اسٹیٹ جیسے بڑے سیکٹرز میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور شفافیت لانے کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
اس منصوبے کے تحت جائیداد اور دیگر اثاثوں کو ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کیا جائے گا، جس سے چھوٹے سرمایہ کار بھی بڑی پراپرٹی میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف سرمایہ کاری کے عمل کو شفاف بنائے گا بلکہ جائیداد کی خرید و فروخت میں موجود پیچیدگیوں کو کم کر کے مارکیٹ کی لیکویڈیٹی میں بھی اضافہ کرے گا۔ وزیر خزانہ نے ڈیجیٹل اتھارٹی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک مربوط اور محفوظ ریگولیٹری فریم ورک کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
مزید برآں، پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بھی ڈیجیٹل اثاثہ جات فراہم کرنے والوں کے لیے لائسنسنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں روایتی سرمایہ کاری کے طریقوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے جہاں ایک طرف سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے، وہیں ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحان میں بھی اضافے کی توقع ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ ایک ایسے محفوظ ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کو تشکیل دیا جائے جو ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی میں معاون ثابت ہو۔