LIVE
Loading Breaking News...

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں مستحکم، سرمایہ کار محتاط

News Image
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں استحکام دیکھا جا رہا ہے کیونکہ سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کی ممکنہ شرح سود اور خطے میں جاری کشیدگی کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار سونے کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں گزشتہ چند دنوں کے اتار چڑھاؤ کے بعد اب ایک خاص سطح پر مستحکم ہو گئی ہیں۔ سرمایہ کار اور تاجر اس وقت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ وہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کے مستقبل کے راستے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جیو پولیٹیکل کشیدگی کے معاشی اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، سونے کی قیمتوں میں حالیہ تیزی کے بعد اب ایک معمولی ٹھہراؤ دیکھا جا رہا ہے، جو سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع خوری کے رجحان کا نتیجہ ہے۔ دوسری جانب، سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اب امریکی افراطِ زر کے آنے والے سرکاری اعداد و شمار پر مرکوز ہے۔ اگر یہ اعداد و شمار توقعات کے مطابق رہتے ہیں تو امکان ہے کہ سونے کی مانگ میں دوبارہ تیزی آئے گی، کیونکہ سونے کو عام طور پر مہنگائی کے خلاف ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی یہ دیکھا گیا ہے کہ جب امریکی معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے، تو عالمی سطح پر سونے کے خریداروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور قیمتیں نئی بلندیوں کو چھونے لگتی ہیں۔ حال ہی میں سونے نے دس ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ کر ایک نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے والا ایک اہم عنصر ہے۔ خطے میں سیاسی عدم استحکام کی صورت میں عالمی منڈیوں میں خام تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں تبدیلی آتی ہے، جس کا براہِ راست اثر سونے کی قدر پر پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونے کی قیمتوں میں کچھ ہفتہ وار نقصانات کا خدشہ بھی موجود ہے کیونکہ سرمایہ کار اپنی پوزیشنز کو ایڈجسٹ کر رہے ہیں، تاہم طویل مدتی بنیادوں پر سونے کی مانگ برقرار رہنے کی توقع ہے۔ مجموعی طور پر، عالمی معاشی منظرنامہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ مرکزی بینکوں کی پالیسیاں اور عالمی سیاسی حالات آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کے تعین میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے محتاط انداز میں فیصلے کریں، کیونکہ افراطِ زر کے اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد مارکیٹ میں بڑی تبدیلیوں کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔