Health
این ایچ ایس کا ڈیٹا لیک: پیجر نیٹ ورک کے استعمال پر سیکیورٹی الرٹ
برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) نے تسلیم کیا ہے کہ پیجر نیٹ ورک کے غیر محفوظ استعمال کی وجہ سے ٹرانسپلانٹ کے مریضوں کی نجی معلومات افشاء ہو گئی ہیں۔ ڈیٹا کی یہ سنگین خلاف ورزی ایک پرانے مواصلاتی نظام کے انکرپٹڈ نہ ہونے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔
برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے اندر ایک بڑی سیکیورٹی خامی کا انکشاف ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ٹرانسپلانٹ کروانے والے درجنوں مریضوں کی حساس طبی معلومات غیر محفوظ طریقے سے افشاء ہو گئی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ ڈیٹا لیک تب ہوا جب ہسپتالوں کے عملے کی جانب سے مریضوں کی تفصیلات پیجر نیٹ ورک کے ذریعے بھیجی گئیں۔ یہ پیجر سسٹم پرانے مواصلاتی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو جدید ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق انکرپٹڈ (محفوظ) نہیں ہے۔ اس سنگین غفلت کے باعث مریضوں کے نام، ان کی طبی تاریخ اور پیوند کاری سے متعلق حساس تفصیلات ممکنہ طور پر غیر مجاز افراد تک پہنچنے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق پیجر نیٹ ورک کا استعمال پرانے وقتوں میں عام تھا، لیکن جدید دور میں یہ کسی بھی بڑے ڈیٹا کی ترسیل کے لیے محفوظ نہیں سمجھا جاتا۔ این ایچ ایس انتظامیہ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک جامع تحقیقات کر رہے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق، نیٹ ورک کے انکرپٹڈ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ڈیٹا کسی بھی ایسے شخص کی پہنچ میں آ سکتا تھا جو اس مخصوص فریکوئنسی یا نیٹ ورک تک رسائی رکھتا ہو۔ اگرچہ ابھی تک اس ڈیٹا کے کسی غلط استعمال کی اطلاع نہیں ملی ہے، تاہم اس واقعے نے ہیلتھ کیئر سیکٹر میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کے معیار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد فوری طور پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ آئندہ ایسی غفلت سے بچا جا سکے۔ مریضوں کی پرائیویسی کو یقینی بنانے کے لیے پرانے مواصلاتی آلات کو مکمل طور پر ترک کر کے جدید اور انکرپٹڈ ڈیجیٹل سسٹم متعارف کروانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ این ایچ ایس نے ان تمام مریضوں سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا ہے جن کی معلومات اس سیکیورٹی خامی سے متاثر ہوئیں اور انہیں یقین دلایا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کے لیے سخت پروٹوکول نافذ کیے جائیں گے۔