LIVE
Loading Breaking News...

لائسنس پلیٹ ریڈرز کا غلط استعمال، فلک کمپنی نے سکیورٹی اقدامات بڑھا دیے

News Image
امریکی فرم فلک نے پولیس افسران کی جانب سے لائسنس پلیٹ ریڈرز کے غلط استعمال کے واقعات سامنے آنے کے بعد نگرانی کا نظام سخت کر دیا ہے۔ کمپنی نے اب ڈیٹا تک رسائی اور نگرانی کے طریقہ کار میں مزید شفافیت متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی فرم فلک سیفٹی نے اپنے خودکار لائسنس پلیٹ ریڈرز (ALPR) کے نظام میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف رپورٹوں میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ کچھ پولیس افسران نے ذاتی مقاصد یا سٹاکنگ کے لیے اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اب ڈیٹا تک رسائی کے عمل کو مزید شفاف بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی غیر مجاز سرگرمی کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو خودکار طریقے سے سکین کر کے ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ تاہم پولیس اہلکاروں کی جانب سے اس حساس ڈیٹا کے غلط استعمال نے عوامی حلقوں اور پرائیویسی ایڈوکیٹس میں شدید تشویش پیدا کر دی تھی۔ کمپنی نے اعتراف کیا کہ سسٹم کا غلط استعمال قانون کی خلاف ورزی ہے اور اب وہ ایسی پالیسیاں لاگو کر رہے ہیں جن کے تحت کسی بھی افسر کو بلاوجہ گاڑیوں کی نگرانی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نئے حفاظتی اقدامات کے تحت کمپنی اپنے سافٹ ویئر میں ایسے الرٹس اور آڈٹ ٹولز شامل کر رہی ہے جو مشکوک سرگرمیوں کو خود بخود پکڑ سکیں گے۔ اگر کوئی صارف بار بار کسی خاص نمبر پلیٹ کو سرچ کرنے کی کوشش کرے گا تو سسٹم اس کی نشاندہی کرے گا اور متعلقہ حکام کو مطلع کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنا اور اس جدید ٹیکنالوجی کو صرف جرائم کی روک تھام کے لیے استعمال کرنا یقینی بنانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اب عوامی دباؤ کے بعد اپنی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں سمجھ رہی ہیں۔ فلک کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ نگرانی کرنے والے سسٹمز کے لیے سخت اخلاقی اور قانونی ضابطہ کار کا ہونا کتنا ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید کمپنیوں کو بھی اپنی ٹیکنالوجی کی جانچ پڑتال کے لیے اسی طرح کے سخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے تاکہ عوامی پرائیویسی کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔