LIVE
Loading Breaking News...

نائجل فاریج کی پارلیمانی نشست پر واپسی اور کونسٹ بن فیس کا مقابلہ

News Image
ریفارم یو کے کے رہنما نائجل فاریج نے کلیکٹن سے پارلیمانی نشست دوبارہ جیت لی ہے، تاہم انہیں ایک کامیڈین کونسٹ بن فیس کی طرف سے کڑی تنقید اور ووٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس انتخاب کا مقصد فاریج پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا دفاع کرنا تھا لیکن اہم جماعتوں کے بائیکاٹ نے اس کی اہمیت کو کم کر دیا۔
برطانیہ میں ریفارم یو کے کے رہنما نائجل فاریج نے جمعہ کے روز ایک انتہائی ڈرامائی انتخاب کے بعد اپنی پارلیمانی نشست دوبارہ حاصل کر لی ہے۔ یہ انتخاب انہوں نے خود اس وقت طلب کیا تھا جب ان پر مالی بدعنوانی اور ڈونرز سے غیر اعلانیہ تحائف لینے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، تاکہ وہ اپنے ووٹرز سے ایک نیا مینڈیٹ حاصل کر کے ان الزامات کا سیاسی طور پر مقابلہ کر سکیں۔ تاہم، ان کی یہ حکمت عملی اس وقت کچھ حد تک متاثر ہوئی جب ان کے اہم ترین حریف ایک مزاحیہ فنکار بنے جوڑے ہوئے کچرے کے ڈبے کی پوشاک پہنے ہوئے تھے اور انہوں نے کل ایک چوتھائی سے زائد ووٹ حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ انتخاب کے دوران ایک غیر معمولی صورتحال اس وقت دیکھنے میں آئی جب نائجل فاریج نے جنوبی انگلینڈ کے ساحلی علاقے کلیکٹن میں ووٹوں کی گنتی کے مقام پر جانے سے گریز کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے انہیں بتایا ہے کہ ان کے نتائج کو خراب کرنے یا خلل ڈالنے کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔ اپنے حامیوں سے ایک نجی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے فاریج کا کہنا تھا کہ وہ قطعی طور پر یہ پسند نہیں کریں گے کہ شاندار فتح کے باوجود اسٹیج پر کھڑے ہو کر کسی کے سامنے تذلیل کا نشانہ بنیں۔ یاد رہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کے قوانین کے تحت نائجل فاریج ایک کرپٹو کرنسی ارب پتی سرمایہ کار کی جانب سے ملنے والے مبینہ تحفے کی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں، جس پر پارلیمانی واچ ڈاگ کی نظر ہے۔ اس انتخاب میں برطانوی سیاسی منظر نامے کی بڑی جماعتوں نے حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا، جسے انہوں نے ایک خود غرضانہ سیاسی ڈراما قرار دیا تھا۔ بڑی جماعتوں کے بائیکاٹ کے باعث نائجل فاریج کا اصل مقابلہ 'کونسٹ بن فیس' نامی امیدوار سے ہوا جو کامیڈین جوناتھن ہاروے کا تخلیق کردہ ایک فرضی کردار ہے اور برطانوی انتخابات میں طنزیہ طور پر حصہ لیتا ہے۔ اگرچہ نائجل فاریج نے 62.8 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، لیکن کونسٹ بن فیس نے 26.7 فیصد ووٹ لے کر سب کو حیران کر دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس تمام صورتحال نے نائجل فاریج کے بیانیے کو کمزور کیا ہے کیونکہ ووٹرز کی ایک بڑی تعداد نے اسے وقت اور وسائل کا ضیاع قرار دیا۔ اب جبکہ فاریج نے اپنی نشست دوبارہ جیت لی ہے، پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی ان کے مالیاتی اعلانات کی چھان بین جاری رکھے گی۔ اگر وہ قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے تو انہیں معطلی اور دوبارہ انتخاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دریں اثنا، وزیراعظم کے عہدے پر آنے والی نئی لیبر پارٹی بھی عوام میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے، جس کی وجہ سے برطانوی دائیں بازو کی سیاست میں مقابلہ مزید سخت ہوتا جا رہا ہے۔ ریفارم پارٹی کو اب قدامت پسندوں اور دیگر جماعتوں کی طرف سے بھی کڑے سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔