LIVE
Loading Breaking News...

یوم آزادی پر ہوائی فائرنگ: کراچی میں ہلاکتیں اور زخمیوں کی تعداد

News Image
پاکستان کے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر کراچی میں ہوائی فائرنگ کے افسوسناک واقعات میں دو شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ شہر بھر کے مختلف ہسپتالوں میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے کم از کم 94 افراد کو طبی امداد کے لیے لایا گیا۔
پاکستان کے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک بھر میں جشن کا سماں تھا، تاہم کراچی میں خوشی کا یہ موقع افسوسناک واقعات میں بدل گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں جشن منانے والوں کی جانب سے کی گئی اندھا دھند ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ کم از کم 94 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر شہر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ طبی ذرائع کے مطابق زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ واقعات شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آئے جہاں نوجوانوں اور شہریوں نے ہوائی فائرنگ کر کے آزادی کے دن کا اظہار کیا۔ ہوائی فائرنگ کے دوران گرنے والی گولیوں اور چھروں کے باعث متعدد راہگیر بھی شدید زخمی ہوئے، جس سے شہر کے بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ زخمیوں کو لائے جانے کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا جس کے بعد طبی عملے کو ہنگامی بنیادوں پر تعینات کیا گیا۔ دوسری جانب، کراچی پولیس چیف اور اعلیٰ حکام نے ہوائی فائرنگ کے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر ذرائع سے فائرنگ کرنے والوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے تاکہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہوائی فائرنگ ایک سنگین جرم ہے اور اس سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شہریوں کی جانب سے آزادی کے جشن میں ہوائی فائرنگ کی اس روایت نے ایک بار پھر سکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور عوام میں قانون کی پاسداری کے شعور پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ خوشی منانے کے اس غیر ذمہ دارانہ انداز کو روکنے کے لیے صرف پولیس کی کارروائی کافی نہیں بلکہ والدین اور سماجی تنظیموں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آئندہ کسی بھی قومی تہوار پر ایسی المناک صورتحال سے بچا جا سکے۔