LIVE
Loading Breaking News...

ایشیا پیسیفک میں صحت عامہ کے نظام کو درپیش جدید خطرات اور چیلنجز

News Image
ایشیا پیسیفک کے خطے میں موسمیاتی تغیرات اور جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی صحت عامہ کے نظاموں کے لیے بڑے چیلنجز بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی تک رسائی میں فرق امیر اور غریب ممالک کے درمیان صحت کی سہولیات کے تفاوت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
ایشیا پیسیفک کا خطہ اس وقت صحت عامہ کے سنگین چیلنجوں کی زد میں ہے، جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والی قدرتی آفات اور بیماریاں صحت کے نظام پر بوجھ بن رہی ہیں، تو دوسری طرف مصنوعی ذہانت (AI) جیسی جدید ٹیکنالوجی کا تیزی سے ارتقاء نئے تقاضے پیدا کر رہا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہیٹ ویوز، سیلاب اور آلودگی کے مسائل بڑھ رہے ہیں، جس سے ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ گیا ہے اور بنیادی طبی ڈھانچے پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی اثنا میں مصنوعی ذہانت کا شعبہ صحت میں داخلہ ایک دو دھاری تلوار ثابت ہو رہا ہے۔ اگرچہ AI طبی تشخیص اور علاج کے عمل کو تیز تر اور درست بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کی رسائی فی الحال محدود ہے۔ رپورٹ کے مطابق، AI کی ٹیکنالوجی کا زیادہ تر انحصار ترقی یافتہ اور امیر ممالک پر ہے، جہاں وسائل کی فراوانی کے باعث اس جدید نظام کو آسانی سے اپنایا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس، خطے کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں، جس کے باعث طبی سہولیات کے معیار میں واضح فرق پیدا ہو رہا ہے۔ ماہرین کا یہ خدشہ بجا ہے کہ اگر یہ تفاوت برقرار رہا تو غریب ممالک صحت کے عالمی نظام سے کٹ کر رہ جائیں گے، جس کے نتیجے میں سماجی و معاشی ناہمواری مزید گہری ہو سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے فوائد صرف چند امیر طبقوں تک محدود رہنا ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ایسی حکمت عملی مرتب کریں جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی کو تمام خطوں اور طبقات تک یکساں طور پر پہنچایا جا سکے تاکہ انسانیت کو درپیش ان مشترکہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ مستقبل میں ایشیا پیسیفک کے ممالک کو موسمیاتی لچک پیدا کرنے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ یہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق اور صحت عامہ کی مساوات کا معاملہ ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صحت کے نظام میں موجود یہ خلیج مزید بڑھ جائے گی، جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔