LIVE
Loading Breaking News...

کمپیوٹنگ ایجوکیشن میں طالبات کا بڑھتا ہوا رجحان

News Image
برطانیہ میں اے لیول کے امتحانات میں کمپیوٹنگ کے مضمون کا انتخاب کرنے والی طالبات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین تعلیم نے اس رجحان کو صنفی مساوات اور ٹیکنالوجی کی صنعت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔
برطانیہ میں جاری اے لیول کے تازہ ترین تعلیمی اعداد و شمار کے مطابق، کمپیوٹنگ کے مضمون کا انتخاب کرنے والے طلباء کی مجموعی تعداد میں معمولی اضافے کے ساتھ ساتھ، اس شعبے میں طالبات کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سائنس جیسے روایتی طور پر مردوں کے غلبے والے شعبوں میں اب لڑکیاں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہیں اور کیریئر کے طور پر کوڈنگ اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کو ترجیح دے رہی ہیں۔ تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی کے پیچھے حکومتی سطح پر STEM مضامین کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششیں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے خواتین کو ملازمتوں میں ترجیح دینے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں کمپیوٹنگ کی اہمیت کو اجاگر کرنے والی آگاہی مہمات نے بھی طالبات کے اعتماد کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ ابھی بھی طلباء کے درمیان صنفی فرق مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے، تاہم اعداد و شمار اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ گزشتہ چند سالوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی شرکت کا تناسب مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کمپیوٹنگ کی تعلیم حاصل کرنے والی ان نوجوان لڑکیوں کا مقصد نہ صرف کوڈنگ کی مہارت حاصل کرنا ہے بلکہ مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت میں خود کو ایک ماہر کے طور پر منوانا بھی ہے۔ ٹیکنالوجی انڈسٹری میں تنوع اور شمولیت کو فروغ دینے والے اداروں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی شمولیت سے جدت طرازی میں اضافہ ہوگا اور کام کی جگہوں پر نئی سوچ پروان چڑھے گی۔ اے لیول کی سطح پر یہ دلچسپی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی کمپیوٹر سائنس کے داخلوں پر اثر انداز ہوگی۔ یونیورسٹیوں کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کمپیوٹنگ سے منسلک شعبوں میں لڑکیوں کی جانب سے درخواستوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے یہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ نئی نسل تکنیکی تعلیم کو اپنی کامیابی کی کنجی سمجھ رہی ہے اور صنفی دقیانوسی تصورات کو پیچھے چھوڑ کر ڈیجیٹل دنیا میں اپنے لیے نئے راستے تلاش کر رہی ہے۔