LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں ایتھنول ملاوٹ: کار ساز کمپنیوں کے خفیہ تحفظات کا انکشاف

News Image
بھارت میں آٹو موبائل لابی کی جانب سے ایتھنول ملے ایندھن کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا جس کے بعد اچانک شکایت واپس لے لی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایتھنول کی زیادہ مقدار گاڑیوں کے انجن کے لیے ممکنہ خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔
بھارت میں حال ہی میں ایتھنول سے ملے جلے پیٹرول (E20) کے حوالے سے سرکاری یقین دہانیوں کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ایک اہم انکشاف ہوا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی آٹو موبائل لابی نے ایندھن میں ملاوٹ کے حوالے سے حکومت کو بھیجی گئی اپنی شکایت خاموشی سے واپس لے لی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کار ساز کمپنیوں نے عوامی سطح پر اطمینان کا اظہار کرنے سے قبل نجی طور پر ایتھنول کی اعلیٰ سطح کے ایندھن میں شامل ہونے سے انجن کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب حکومت نے ملک بھر میں ایتھنول بلینڈنگ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا، تاہم صنعت کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایندھن کے معیار کو سختی سے کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ گاڑیوں کے لیے سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کار ساز کمپنیوں کی جانب سے ایندھن میں نمی اور دیگر کیمیائی عناصر کی آلودگی (Contamination) پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا جو ایتھنول کے ساتھ مل کر انجن کے پرزوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ آٹو لابی کی جانب سے یہ شکایت اس لیے اہم تھی کیونکہ یہ براہ راست گاڑیوں کی کارکردگی اور حفاظت سے متعلق تھی۔ تاہم، حکومت کی جانب سے عوامی یقین دہانیوں کے فوری بعد اس شکایت کا واپس لیا جانا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ صنعت کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے دباؤ ڈال کر ان خدشات کو دبایا ہے تاکہ ایتھنول بلینڈنگ کے قومی اہداف کو بغیر کسی رکاوٹ کے حاصل کیا جا سکے۔ ادھر حکومت کا موقف ہے کہ بھارت میں ایتھنول کا استعمال نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ یہ درآمدی بل میں کمی کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ حکومتی عہدیداران نے یقین دلایا ہے کہ پیٹرول پمپوں پر فراہم کیا جانے والا ایندھن بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے اور گاڑیوں کے انجنوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ لیکن دوسری جانب، ماہرینِ میکینکس کا یہ کہنا ہے کہ پرانی گاڑیوں اور ایسے انجنوں میں جنہیں ایتھنول کے لیے خاص طور پر ڈیزائن نہیں کیا گیا، وہاں ایندھن کی یہ ملاوٹ انجن کے فیول سسٹم میں کٹاؤ اور زنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ اس معاملے پر اب گاڑی مالکان میں تشویش پائی جاتی ہے کہ آیا ان کی گاڑیاں اس نئے ایندھن کے لیے واقعی تیار ہیں یا نہیں۔ کار ساز کمپنیوں کی خاموشی نے اس بحث کو مزید ہوا دی ہے کہ کیا تجارتی مفادات اور سرکاری اہداف کو عوامی تحفظ اور گاڑیوں کی لمبی عمر پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید ٹیکنیکل رپورٹس اور گاڑیوں کے انجن پر مرتب ہونے والے اثرات کے نتائج اہم ثابت ہوں گے، جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ خدشات محض قیاس آرائیاں تھے یا واقعتاً ایک تکنیکی خطرہ موجود ہے۔