LIVE
Loading Breaking News...

ایئر انڈیا طیارہ حادثہ: ایئربس کی رپورٹ اور پائلٹس کے ٹیسٹ کا فیصلہ

News Image
ایئربس کی ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایئر انڈیا کے ایک اے 320 طیارے کو پرواز کے دوران 300 فٹ نیچے گرنے پر اہم فلائٹ کنٹرولز میں عارضی طور پر خلل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد ایئر لائن انتظامیہ نے تمام پائلٹس کے لیے منشیات کے لازمی ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایئر انڈیا کے ایک اے 320 طیارے کو پرواز کے دوران اس وقت شدید خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب وہ اچانک تین سو فٹ نیچے گر گیا اور اس دوران طیارے کے اہم فلائٹ کنٹرولز عارضی طور پر غیر فعال ہو گئے۔ طیارہ بنانے والی بین الاقوامی کمپنی ایئربس کی جانب سے کیے جانے والے تکنیکی تجزیے میں اس واقعے کی تصدیق کی گئی ہے جس نے ایوی ایشن کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب طیارے کو مبینہ طور پر ایک ایسے پائلٹ کے ذریعے اڑایا جا رہا تھا جس کے بارے میں بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ ممنوعہ مادے کے زیر اثر تھا۔ واقعے کے دوران مبینہ طور پر کو پائلٹ نے طیارے کا رخ نیچے کی طرف کر دیا تھا جس کی وجہ سے مسافروں اور عملے کو شدید خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس چار سیکنڈ کے دوران طیارے کا توازن انتہائی خطرناک حد تک بگڑ گیا تھا جس نے عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو چیلنج کر دیا۔ اس سنگین واقعے کے بعد ایئر انڈیا انتظامیہ نے فوری اور سخت اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایئرلائن کی طرف سے جاری کردہ نئے احکامات کے مطابق اب تمام پائلٹس اور فضائی عملے کے ارکان کے لیے منشیات کے ٹیسٹ لازمی قرار دے دیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے خطرناک واقعات سے بچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پروازوں کی حفاظت اور مسافروں کی جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایوی ایشن کے ماہرین نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پائلٹس کی طبی اور ذہنی صحت کی کڑی جانچ پڑتال پر زور دیا ہے تاکہ فضائی سفر کو ہر لحاظ سے محفوظ بنایا جا سکے۔