LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا پہلا چاند مشن 2029، جناح ون روور کا اعلان

News Image
پاکستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اپنے پہلے قمری روور کا سرکاری طور پر نام 'جناح ون' رکھ دیا ہے۔ یہ تاریخی مشن 2029 میں چین کے ساتھ شراکت داری کے تحت چاند کے جنوبی قطب کے لیے روانہ کیا جائے گا۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) پاکستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے اپنے پہلے قمری روور کا باضابطہ نام 'جناح ون' (Jinnah-1) رکھ دیا ہے۔ قومی خلائی ادارے سپارکو کے مطابق یہ مشن پاکستان کے لیے خلائی explorations کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا، جو کہ 2029 میں چاند کی جانب روانہ کیا جائے گا۔ اس اہم پیشرفت کے بعد پاکستان بھی باضابطہ طور پر اس دوڑ میں شامل ہو گیا ہے جہاں دنیا کے چند ہی ممالک چاند کی سطح پر اپنے سائنسی آلات اور روور بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، جناح ون روور کو چین کے ساتھ شراکت داری کے تحت چاند کے انتہائی اہم اور پُر اسرار حصے یعنی جنوبی قطب (South Pole) پر اتارا جائے گا۔ چاند کا یہ خطہ سائنسی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہاں پانی کی برف اور دیگر قیمتی معدنیات کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ اس مشن کے تحت پاکستانی سائنسدان اور انجینیئرز چینی خلائی ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کریں گے، جس سے نہ صرف پاکستان کی خلائی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو بھی نئی رغبت ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم پاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے خلائی میدان میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لیے متعدد چھوٹے سیٹلائٹس خلاء میں بھیجے ہیں، تاہم چاند پر روور اتارنا ایک انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی مرحلہ ہے۔ سپارکو کے حکام پر امید ہیں کہ 2029 کے اس مشن کی کامیابی سے پاکستان دنیا کے ان چند चुندہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا جو چاند کی سطح پر اپنی زمینی گاڑی یا روور کامیابی سے اتار چکے ہیں۔ اس اعلان کے بعد سے ملک بھر میں سائنسی حلقوں اور نوجوانوں کی جانب سے اس پیشرفت کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بڑے خلائی مشنز نوجوان نسل کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے شعبوں میں کیریئر بنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جیسے جیسے 2029 کا یہ تاریخی مشن قریب آئے گا، سپارکو کی جانب سے اس کی تیاریوں اور تکنیکی پہلوؤں کے حوالے سے مزید تفصیلات بھی سامنے لائی جائیں گی، جس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔