Business
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نیا اضافہ
حکومت پاکستان نے عوام پر بوجھ ڈالتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے جس سے مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
اسلام آباد: حکومت پاکستان نے ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی بڑھا دی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ اور ٹیکسوں کی وصولی کے باعث حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی اشیاء پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 45 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 16 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل پٹرولیم لیوی کی وصولی میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا تھا جو مالی سال کے دوران ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے محصولات بڑھانے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کا سلسلہ جاری ہے، جس کا براہ راست اثر عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کے مہنگے ہونے سے غریب عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ معاشی استحکام اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے اس قسم کے سخت فیصلے ناگزیر ہوتے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر عالمی منڈی میں تیل کے نرخ مزید بڑھتے ہیں تو حکومت پر قیمتیں برقرار رکھنے کا دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متبادل اقدامات کرے تاکہ مہنگائی کے طوفان سے کم سے کم نقصان پہنچے۔ اس وقت پوری قوم کی نظریں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور مہنگائی کو قابو پانے کے اقدامات پر مرکوز ہیں۔