LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کمی

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے جس کی وجہ سے خطے میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشمکش کے اثرات اب عالمی تجارت پر بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کی آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک کنٹرول کی جنگ اور بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بحری جہازوں کے مالکان نے اس راستے سے گزرنے سے گریز کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے براہ راست اثرات عالمی منڈیوں اور توانائی کے شعبے پر پڑ رہے ہیں۔ تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ دنیا بھر میں تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق تہران اور واشنگٹن دونوں کی طرف سے معاوضے کے مطالبات اور اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں نے سفارتی حل کی امیدوں کو بھی مدھم کر دیا ہے، جس سے کاروباری حلقوں میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں یہ تعطل طویل عرصے تک جاری رہا تو اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تیل کی ترسیل میں تعطل کی وجہ سے صنعتیں اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبے متاثر ہو رہے ہیں، اور عالمی اقتصادی ادارے اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ عالمی سپلائی چین کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے۔