LIVE
Loading Breaking News...

باکسنگ کے سابق کھلاڑی پرنچارڈ کولون کی وفات، تفصیلی رپورٹ

News Image
باکسنگ کے ایک خطرناک مقابلے کے دوران دماغی چوٹ لگنے کے بعد 221 دن تک کومہ میں رہنے والے باکسر پرنچارڈ کولون انتقال کر گئے۔ ان کی المناک موت نے کھیلوں میں حفاظتی اقدامات اور رنگ میں ہونے والے تشدد کے خلاف نئی بحث چھید دی ہے۔
باکسنگ کی دنیا سے ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش خبر سامنے آئی ہے جہاں معروف باکسر پرنچارڈ کولون طویل علالت اور تکلیف کے بعد اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ پرنچارڈ کولون کو سنہ 2015 میں ایک باکسنگ مقابلے کے دوران انتہائی شدید نوعیت کی دماغی اور اعصابی چوٹیں لگی تھیں جس نے ان کی پوری زندگی بدل کر رکھ دی تھی۔ رنگ کے اندر لگنے والے ان مہلک ضربوں کی وجہ سے ان کے دماغ میں خون کی شریانپھٹ گئی تھی اور وہ فوری طور پر شدید طبی بحران کا شکار ہو گئے تھے۔ واقعے کے فوراً بعد انہیں ہنگامی بنیادوں پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کے لیے ہنگامی سرجری کی، مگر چوٹ اتنی گہری تھی کہ وہ ہوش میں نہ آ سکے۔ اس سرجری اور شدید صدمے کے نتیجے میں پرنچارڈ کولون کو 221 دن تک مسلسل کومہ (غفلت کی طویل نیند) کی حالت میں رہنا پڑا۔ ان کے اہل خانہ نے اس طویل اور کٹھن عرصے میں ان کی دیکھ بھال کی اور دنیا بھر سے ان کے مداحوں نے ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کیں، مگر اعصابی نظام کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اس المناک واقعے نے ایک بار پھر عالمی سطح پر باکسنگ کے کھیلوں میں حفاظتی قوانین، ریفریوں کے کردار اور کھلاڑیوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کھیلوں کے ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ رنگ کے اندر کھلاڑیوں کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی اور کھلاڑی کو اس قسم کے سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پرنچارڈ کولون کی موت سے کھیلوں کی دنیا سوگوار ہے اور ہر آنکھ ان کی اس دردناک رخصتی پر اشکبار ہے۔