Pakistan
محسن نقوی اور نارویجن وزیر خارجہ کی ملاقات، دہشت گردی اور افغان صورتحال پر گفتگو
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور انسداد دہشت گردی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران محسن نقوی نے واضح کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے مسلسل افغان سرزمین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈی نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، علاقائی سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ناروے کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ ایک دہائی کے طویل وقفے کے بعد کسی بھی نارویجن وزیر خارجہ کا پہلا دورہ پاکستان ہے، جسے سفارتی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ملاقات میں وزیر مملکت طلال چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نارویجن ہم منصب کو دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے مسلسل افغان سرزمین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گرد عناصر اور دنیا کے درمیان ایک مضبوط دیوار کی طرح کھڑا ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں انسداد دہشت گردی کے علاوہ غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام، پولیس ٹریننگ اور باہمی قانونی معاونت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے اور پاکستان کے موثر اقدامات کی بدولت یورپ جانے والی غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد تک نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانے کے لیے قانونی ہجرت کے عمل کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے۔ ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈی نے اس موقع پر ناروے میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے فعال کردار اور سیاست سے لے کر صحت کے شعبے تک ان کی گراں قدر خدمات کو سراہا۔ ملاقات میں دوطرفہ تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی غور کیا گیا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اس دورے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔