World
ٹرمپ کے خلاف ایرانی سازشیں: امریکہ اسرائیلی انتباہات کی تصدیق نہ کر سکا
امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مبینہ ایرانی سازشوں کے بارے میں اسرائیلی انتباہات کی حتمی تصدیق کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ صورتحال کا واضح جائزہ لیا جا سکے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اور سکیورٹی ادارے نو منتخب یا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مبینہ ایرانی سازشوں کے حوالے سے موصول ہونے والے اسرائیلی انتباہات کی تصدیق کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی رپورٹس میں کیا گیا ہے، جس سے سیکورٹی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ملنے والی معلومات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے تاہم تاحال ایسے ناقابل تردید شواہد نہیں مل سکے جو ان دعوؤں کی مکمل تائید کریں۔
ذرائع کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سکیورٹی پہلے ہی انتہائی حساس نوعیت کی ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے ماضی میں بھی دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں جن کی بنیاد پر امریکی ادارے مختلف خطرات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے ہیں۔ تاہم، اسرائیلی انتباہات میں جن مخصوص سازشوں کا ذکر کیا گیا تھا، ان کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تاحال ان کی براہ راست تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان انٹیلی جنس کا تبادلہ معمول کا حصہ ہے، لیکن تمام رپورٹس پر سو فیصد عمل درآمد یا فوری توثیق ممکن نہیں ہوتی۔ امریکی حکام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ٹرمپ کی سکیورٹی کو لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں، خواہ انتباہات کی تصدیق ہو سکے یا نہیں۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔