Technology
ڈی ریم چپس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ٹیک انڈسٹری بحران کا شکار
کمپیوٹنگ پاور کی مسلسل بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے دنیا بھر میں الیکٹرانک اجزاء کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ڈی ریم (DRAM) میموری چپس کی قیمتوں میں ایک ہی سہ ماہی میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر کمپیوٹنگ پاور کی غیر معمولی اور مسلسل بڑھتی ہوئی طلب نے الیکٹرانک اجزاء کی فراہمی کے نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ دنیا بھر میں ہارڈ ویئر اور اسمارٹ ڈیوائسز بنانے والی کمپنیوں کو اس وقت پرزہ جات کی قلت کا سامنا ہے، جس کے براہ راست اثرات مارکیٹ پر پڑ رہے ہیں۔ سستے اور آسانی سے دستیاب چپس کا دور اب ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کے چیلنجز سنگین شکل اختیار کر چکے ہیں۔ خاص طور پر کمپیوٹرز اور سرورز میں استعمال ہونے والی بنیادی میموری چپس، جنہیں ڈی ریم (DRAM) کہا جاتا ہے، کی قیمتوں میں رواں سال کے دوران حیرت انگیز اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صرف ایک ہی سہ ماہی میں ان چپس کی قیمتیں پچاس فیصد سے زائد بڑھ چکی ہیں، جبکہ گزشتہ خزاں کے مقابلے میں ان کی مجموعی قیمتیں تقریباً چار گنا تک پہنچ گئی ہیں۔ اس ہوشربا اضافے نے ٹیکنالوجی انڈسٹری کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف مینوفیکچرنگ کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ صارفین کے لیے بھی الیکٹرانک اشیاء مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈی ریم چپس کی یہ بڑھتی ہوئی قیمتیں بڑی ٹیک کمپنیوں کے منافع پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے بے تحاشا پھیلاؤ کی وجہ سے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ہارڈ ویئر کی طلب میں آسمان چھوتی تیزی آئی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں پیداواری صلاحیت اس رفتار سے نہیں بڑھ سکی۔ سپلائی اور ڈیمانڈ کے اس بڑے فرق نے مارکیٹ میں مصنوعی یا حقیقی مہنگائی کو جنم دیا ہے۔ اگر سپلائی چین کے یہ مسائل جلد حل نہ کیے گئے تو آنے والے مہینوں میں نہ صرف کمپیوٹر اور موبائل فونز بلکہ دیگر اسمارٹ آلات کی قیمتوں میں بھی مزید بڑا اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ صنعتی حلقے اس بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل ذرائع اور نئی پیداواری لائنز کی تلاش میں ہیں تاکہ سستے چپس کی دستیابی کو کسی حد تک یقینی بنایا جا سکے، تاہم قلیل مدت میں قیمتوں کے نیچے آنے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔