Technology
مصنوعی ذہانت میں غلطی کی شرح اور کاروباری چیلنجز پر بل ٹرسٹ کے سی ٹی او کی رائے
بل ٹرسٹ کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر جان لینڈی کا کہنا ہے کہ ایجنٹک اے آئی کے لیے صاف ڈیٹا اور موثر انسانی نگرانی انتہائی ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت میں معمولی سی غلطی بھی کاروباری اداروں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر بڑے چیلنجز کھڑے کر سکتی ہے۔
بل ٹرسٹ کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر جان لینڈی نے خبردار کیا ہے کہ کاروباری اور مالیاتی نظاموں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ پی وائی ایم اینٹس کی نئی ای بک 'بلڈنگ دی ایجنٹ ریڈی پے منٹس انٹرپرائز' میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سسٹمز میں غلطی کی شرح صرف ایک فیصد بھی ہو، تو یہ کسی بھی ادارے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ایک سو تک مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل اور خودکار مالیاتی نظاموں میں اس قسم کی غلطیاں کاروباری ساکھ اور کارکردگی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ جان لینڈی کے مطابق، ایجنٹک اے آئی کی کامیابی کے لیے صاف ڈیٹا، مضبوط گورننس اور بامعنی انسانی نگرانی تین بنیادی ستون ہیں۔ جدید دور میں جہاں کمپنیاں اپنے فیصلوں کے لیے مکمل طور پر خودکار نظاموں اور مصنوعی ذہانت پر انحصار بڑھا رہی ہیں، وہاں ڈیٹا کے معیار کو برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اگر ان پٹ ڈیٹا میں ذرا سا بھی نقص ہو یا الگورتھم درست طریقے سے کام نہ کرے، تو خودکار فیصلے بڑے پیمانے پر غلطیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بار بار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو جائے، اس پر مکمل اندھا اعتماد کرنے کے بجائے ہر مرحلے پر انسانی کنٹرول کا ہونا ناگزیر ہے۔ آخر میں انہوں نے مشورہ دیا کہ کاروباری اداروں کو اے آئی اپناتے وقت رسک مینجمنٹ کے سخت اصولن اپنانے چاہئیں اور ایسے حفاظتی اقدامات کرنے چاہئیں جو کسی بھی ممکنہ تکنیکی خامی کو بروقت پکڑ کر اسے درست کر سکیں تاکہ روزمرہ کے امور بلا تعطل جاری رہ سکیں۔