Health
شمالی امریکہ میں جگر کی ریجنریشن ٹیکنالوجی کا پہلا کامیاب ٹرانسپلانٹ
کیوبيك سے تعلق رکھنے والے 64 سالہ شخص شمالی امریکہ میں نئی ریجنریشن ٹیکنالوجی کے ذریعے جگر کا ٹرانسپلانٹ کروانے والے پہلے مریض بن گئے ہیں۔ اس انقلابی طبی کامیابی سے آنے والے سالوں میں درجنوں مزید جگر عطیات اور پیوند کاری کے لیے دستیاب ہو سکیں گے۔
کیوبيك سے تعلق رکھنے والے چونسٹھ سالہ مریض نے طب کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل عبور کرتے ہوئے شمالی امریکہ میں پہلی بار ریجنریٹڈ (دوبارہ تیار کردہ) جگر کا کامیاب ٹرانسپلانٹ حاصل کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کو طبی ماہرین کی جانب سے ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں جگر کے عوارض میں مبتلا لاتعداد مریضوں کے لیے نئی زندگی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ اس نئی اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب ایسے جگر بھی پیوند کاری کے قابل بنائے جا سکیں گے جنہیں روایتی طریقوں میں مسترد کر دیا جاتا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ابتدائی سال میں ہی درجنوں اضافی جگر ٹرانسپلانٹ کے لیے دستیاب ہو سکیں گے، جو کہ عطیات کی کمی کا شکار طبی نظام کے لیے ایک بہت بڑی راحت ہے۔ طبی عملے اور سرجنز نے اس کامیابی کو جگر کی پیوند کاری کی تاریخ کا ایک روشن باب قرار دیا ہے کیونکہ اس سے ویٹنگ لسٹ میں موجود مریضوں کے بچنے کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔ اس جدید تکنیک کے ذریعے جگر کو لیبارٹری اور جدید آلات کی مدد سے اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ انسانی جسم میں دوبارہ فعال ہو سکے، جس سے اعضاء کی پیوند کاری کے شعبے میں انقلاب برپا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔