LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کا ایٹمی منصوبہ: 2033 تک پانچ دیسی سمال ماڈیولر ری ایکٹرز کی تیاری

News Image
بھارت نے نیوکلیئر انرجی مشن کے تحت سال 2033 تک کم از کم پانچ دیسی چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs) نصب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد فوسل فیول سے چلنے والے پلانٹس کو مرحلہ وار ختم کرنا اور دور دراز علاقوں میں صاف توانائی کی فراہمی ہے۔
نئی دہلی کے نیوکلیئر انرجی مشن کے تحت بھارت نے اپنے توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے سال 2033 تک کم از کم پانچ دیسی ساختہ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs) تعمیر کرنے کا تہیہ کیا ہے۔ اس پرجوش منصوبے کا بنیادی مقصد ملک میں روایتی فوسل فیول پر مبنی بجلی گھروں کو بتدریج ختم کرنا اور اس کی جگہ صاف ستھری جوہری توانائی کو فروغ دینا ہے۔ حکومت اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز کے علاقوں اور صنعتی کارخانوں کو براہ راست بجلی فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ قومی گرڈ پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ اس نئے نیوکلیئر مشن کا حتمی ہدف سال 2047 تک مجموعی طور پر ایک سو گیگا واٹ (100 GWe) جوہری توانائی کی پیداواری صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز اپنی لچک، کم لاگت اور نقل و حمل کی سہولت کی وجہ سے دنیا بھر میں توانائی کے ماہرین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بھارت میں ان ری ایکٹرز کی تیاری کا مقصد ملکی سطح پر سائنسی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور غیر ملکی انحصار کو کم سے کم کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایس ایم آرز روایتی بڑے ایٹمی پلانٹس کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور جلدی تعمیر ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صنعتی شعبہ جو طویل عرصے سے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے کوشاں ہے، ان چھوٹے ری ایکٹرز سے براہ راست استفادہ کرے گا۔ اس سے نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تمام ضابطہ کار اور حفاظتی انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں نیوکلیئر انرجی مشن بھارت کی معاشی اور ماحولیاتی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر لے گا، جس سے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بڑی مدد ملے گی۔