Technology
میٹا کی آسٹریلیا میں نو عمر اکاؤنٹس کے خلاف بڑی کارروائی
آسٹریلیا میں نو عمر افراد کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے نفاذ کے بعد میٹا نے بڑی کارروائی کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود تاح갓 کم عمر صارفین کی بڑی تعداد آن لائن موجود ہے۔
میٹا نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے آسٹریلیا میں ان 756,000 اکاؤنٹس کو بند یا ڈی ایکٹیویٹ کر دیا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ سولہ سال سے کم عمر کے بچوں اور نوجوانوں کے زیر استعمال تھے۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اس ملک میں دنیا کا پہلا منفرد سوشل میڈیا پابندی کا قانون دھمکی سے نکل کر باضابطہ نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ میٹا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق بند کیے جانے والے ان اکاؤنٹس میں سے بڑی تعداد یعنی 462,000 اکاؤنٹس صرف انسٹاگرام کے تھے جبکہ بقیہ 294,000 اکاؤنٹس فیس بک یا دیگر پلیٹ فارمز سے تعلق رکھتے تھے۔ کمپنی کے اس اقدام کو حکومت کی جانب سے متعارف کروائے گئے سخت قوانین کا براہ راست نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ آسٹریلوی حکومت ملک میں بچوں کی ذہنی صحت اور آن لائن سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں پر مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہے، جس کے تحت کم عمر صارفین کو پلیٹ فارمز سے دور رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ میٹا نے اتنی بڑی تعداد میں اکاؤنٹس کو ہٹا کر اپنی سنجیدگی کا اظہار کیا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔ ماہرین اور رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کے باوجود سولہ سال سے کم عمر کے بیشتر صارفین تاحال مختلف طریقوں سے آن لائن موجود ہیں اور وہ نئی آئی ڈی بنانے یا حفاظتی حصار کو عبور کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ حکومتی عہدیداروں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صرف اکاؤنٹس کو ڈی ایکٹیویٹ کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو عمر کی تصدیق کے لیے مزید موثر اور فول پروف طریقہ کار اپنانا ہوں گے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا ڈیجیٹل دنیا میں سختی کر کے بچوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے مکمل طور پر بچایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ حکام اور میٹا کے درمیان اس حوالے سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اس نئے قانون پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور کم عمر صارفین کی ڈیجیٹل رسائی کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔