World
امریکہ اور ایران کشیدگی: تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ
امریکہ کی جانب سے ایران کو بے مثال اقتصادی تنہائی اور سخت بحری ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نیویارک اور لندن کی مارکیٹوں میں توانائی کے ماہرین اس کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اس وقت اضافہ دیکھا گیا جب امریکہ نے ایران کو دنیا بھر سے 'اقتصادی تنہائی' کا نشانہ بنانے اور بے مثال معاشی پابندیاں عائد کرنے کی سخت دھمکی دی۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکام نے تہران کے خلاف غیر معمولی اقدامات اٹھانے کا عندیہ دیا ہے جس میں ممکنہ طور پر غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے۔ اس جغرافیائی سیاسی تناؤ کے فوراً بعد توانائی کے عالمی تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور تیل کی رسد سے متعلق خدشات کے پیش نظر قیمتوں میں تیزی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی بحریہ خطے میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس میں بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن (USS Abraham Lincoln) کو درپیش مشکلات کا حل اور خطے میں عسکری صلاحیتوں کو بڑھانا بھی شامل ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایسے اقتصادی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں جو اس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہیں دیکھے گئے، جس سے خلیجی خطے میں کشیدگی کی نئی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ پابندیوں اور ممکنہ فوجی تصادم کے اس ماحول نے مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی لائنوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اس صورتحال کے تناظر میں تیل کی تجارت کرنے والے ادارے اور انرجی مارکیٹس انتہائی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان یہ تنازع مزید طول پکڑتا ہے اور بحری ناکہ بندی کو عملی شکل دی جاتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید آسمان کو چھونے لگیں گی۔ عام صارفین اور دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے توانائی کی بڑھتی ہوئی یہ قیمتیں آنے والے دنوں میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان لے کر آ سکتی ہیں، جبکہ عالمی رہنما صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی زور دے رہے ہیں۔