World
کولمبیا زلزلہ: میکسیکو کی ریسکیو ٹیم مسترد
میکسیکو کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ کولمبیا نے حالیہ تباہ کن زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے بھیجی گئی ان کی ریسکیو ٹیم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ کولمبیا میں آنے والے اس شدید زلزلے کے نتیجے میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
میکسیکو کے حکام نے حالیہ دعویٰ کیا ہے کہ کولمبیا میں آنے والے شدید اور تباہ کن زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے بھیجی جانے والی ان کی ماہر ریسکیو ٹیم کو کولمبیا کی حکومت نے مسترد کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق میکسیکو نے اپنی تربیت یافتہ ٹیم اور ضروری آلات متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ کیے تھے تاکہ ملبے تبے دبے افراد کو نکالا جا سکے اور متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اس ٹیم کو قبول نہیں کیا گیا۔
کولمبیا میں آنے والے اس زلزلے نے ملک کے مختلف حصوں میں شدید تباہی مچائی ہے، اور اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور مواصلاتی نظام بھی بری طرح درہم برہم ہو گیا۔ زلزلے کے بعد کے جھٹکوں اور سڑکوں کی بندش کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں اور اصل مرکز تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ زلیا حالیہ برسوں میں کولمبیا میں آنے والا سب سے بڑا اور ہولناک زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں ایمرج نافذ کر دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فلاحی ادارے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی اور خیمے تقسیم کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس نازک صورتحال میں میکسیکو کی ٹیم کا مسترد کیا جانا عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے حکام کی طرف سے اس معاملے پر مزید سفارتی توضیحات سامنے آنا باقی ہیں۔
حکومتِ کولمبیا اور مقامی انتظامیہ اس وقت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن شدید نقصان اور رسد کی مشکلات کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ عالمی برادری نے بھی کولمبیا کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے تاکہ اس انسانی المیے سے نمٹا جا سکے۔