LIVE
Loading Breaking News...

امریکا کا چین اور درجنوں ممالک پر ٹیرف سے بچنے کا الزام

News Image
وائٹ ہاؤس کی ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ درجنوں ممالک چین کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کے ٹیرف سے بچنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس عمل کی وجہ سے امریکا کو سالانہ اربوں ڈالر کے محصول کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم اور تفصیلی رپورٹ میں درجنوں ممالک پر یہ سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ چین کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں لگائے گئے بھاری درآمدی ٹیرف اور پابندیوں سے بچنے میں براہِ راست مدد فراہم کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس غیر قانونی یا بالواسطہ تجارتی طریقے کار کی وجہ سے امریکا کو سالانہ دسیوں ارب ڈالر کے ریونیو کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال امریکی معاشی پالیسیوں کے نفاذ پر ایک بڑا سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چینی مصنوعات کو براہ راست امریکی منڈیوں میں بھیجنے کے بجائے مختلف تیسرے ممالک کے راستے اسمگل یا ٹرانسشپ کیا جا رہا ہے تاکہ اصل ملک کی شناخت چھپائی جا سکے اور محصولات سے بچا جا سکے۔ ان درجنوں ممالک میں کئی ایسے خطے شامل ہیں جو امریکی تجارتی شراکت دار بھی ہیں لیکن وہ مبینہ طور پر چین کے ساتھ تجارتی معاہدوں کی آڑ میں اس پالیسی کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں امریکی منڈی میں غیر منصفانہ مسابقت کو جنم دے رہی ہیں۔ امریکہ کے تجارتی اور اقتصادی حلقوں میں اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد شدید ہلچل مچ گئی ہے اور حکام کی جانب سے سخت اقدامات اٹھائے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی اور معاشی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایسے تمام سقم کو دور کیا جائے گا جو غیر ملکی طاقتوں کو امریکی قوانین کا غلط فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان ممالک کے خلاف سخت تجارتی پابندیوں یا جرمانے عائد کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی تجارت میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ چین اور امریکہ کے درمیان پہلے ہی اقتصادی اور تجارتی محاذ پر کشمکش جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ نے ٹرانسشپمنٹ کے اس عمل کو روکنے کے لیے سخت سرحدی اور کسٹم چیکس کا نفاذ کیا تو عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑیں گے۔