LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی کوریا فٹبال: شدید گرمی کے باعث کے لیگ سیزن تبدیل کرنے کا مطالبہ

News Image
جنوبی کوریا کے فٹبال کھلاڑیوں نے سیزن کے دوران بڑھتی ہوئی شدید گرمی کے پیش نظر کے لیگ کے شیڈول میں تبدیلی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ موسم کی خرابی اور حبس کی لہر ان کی کارکردگی اور صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
جنوبی کوریا کے پروفیشنل فٹبال کھلاڑیوں نے ملک میں دن بہ دن بگڑتی ہوئی موسمی صورتحال اور شدید گرمی کے پیش نظر 'کے لیگ' (K League) کے روایتی سیزن کے نظام میں بڑی تبدیلی لانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران سیزن کے وسط میں پڑنے والی شدید گرمی اور حبس نے فٹبال میچوں کے دوران کھلاڑیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جس پر اب کھلاڑیوں کی تنظیم نے آواز اٹھائی ہے۔ کھلاڑیوں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے سخت موسمی حالات میں میدان پر دوڑنا اور نوے منٹ تک اعلیٰ درجے کی کارکردگی دکھانا انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے ہیٹ سٹروک اور ڈی ہائیڈریشن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ کے لیگ کے موجودہ شیڈول کے تحت زیادہ تر اہم اور فیصلہ کن میچز سال کے گرم ترین مہینوں میں کھیلے جاتے ہیں، جب جنوبی کوریا میں درجہ حرارت اور حبس کی سطح انتہائی بلند ہوتی ہے۔ کھلاڑیوں اور کوچنگ عملے کا کہنا ہے کہ اس دوران کھلاڑی نہ صرف تیزی سے تھکن کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان کی چوٹ لگنے کے امکانات بھی کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ فٹبال حلقوں میں اس بات پر گہرے غور و خوض کا آغاز ہو چکا ہے کہ آیا یورپ کی طرح موسم سرما یا بہار پر مبنی شیڈول کو اپنایا جائے تاکہ کھلاڑیوں کو انتہائی درجے کی گرمی سے بچایا جا سکے اور کھیلوں کے معیار کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔ لیگ انتظامیہ اور فٹبال ایسوسی ایشن کو اس حوالے سے باضابطہ تجاویز پیش کی جا رہی ہیں جن میں شیڈول میں ردوبدل کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگرچہ سیزن کی تبدیلی کے اس فیصلے سے نشریاتی حقوق، تماشائیوں کی آمد اور سالانہ کیلنڈر میں کئی طرح کی تکنیکی تبدیلیاں کرنا پڑیں گی، تاہم کھلاڑیوں کی بڑھتی ہوئی آواز اور تحفظ کا یہ مسئلہ اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر جنوبی کوریا کا فٹبال اس مشکل موسمی چیلنج سے نمٹنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک اہم مثال بنے گا جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کھیلوں پر پڑ رہے ہیں۔