LIVE
Loading Breaking News...

رائن ایر طیارہ حادثہ: انجن کا ملبہ کھڑکی توڑ گیا اور مسافر باہر نکلا

News Image
نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے مطابق رائن ایر کی پرواز کے دوران انجن کا ملبہ کھڑکی توڑ کر اندر گھس گیا جس کی وجہ سے ایک مسافر جزوی طور پر باہر کھنچ گیا۔ اس واقعے سے قبل اسی انجن کے حوالے سے ایک سال میں چار بار پرندوں کے ٹکرانے کے شبہات کا ریکارڈ موجود تھا۔
نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رائن ایر کی ایک پرواز کے دوران انتہائی خطرناک صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب طیارے کے انجن کا ملبہ ٹوٹ کر کیبن کی کھڑکی سے جا ٹکرا۔ اس شدید تصادم کے نتیجے میں کھڑکی کا شیشہ مکمل طور پر ٹوٹ گیا اور دباؤ کی وجہ سے ایک مسافر جزوی طور پر کھڑکی سے باہر کی طرف کھنچ گیا۔ خوش قسمتی سے اس ہولناک حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن یہ واقعہ مسافروں کے لیے انتہائی دہشت ناک ثابت ہوا۔ تحقیقاتی اداروں اور ماہرین نے اس واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے شواہد کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، فلائٹ سسٹمز اور عملے کی جانب سے یہ ریکارڈ کیا گیا تھا کہ اسی مخصوص انجن کے ساتھ ماضی میں بھی پرندوں کے ٹکرانے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران اس انجن سے پرندوں کے ٹکرانے کے چار ایسے مشکوک واقعات کا ریکارڈ ملا ہے جن پر عملے نے پہلے ہی شک کا اظہار کیا تھا۔ یہ انکشاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انجن پہلے ہی سے کسی نہ کسی تکنیکی یا بیرونی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایوی ایشن کے ماہرین نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلائٹ سیفٹی اور انجن کے معیار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پرندوں کے ٹکرانے کے واقعات عام ہیں لیکن اگر بار بار ایک ہی انجن کو اس طرح کے مسائل کا سامنا ہو تو ایئر لائنز اور مینوفیکچررز کو اس کی بروقت مرمت اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ این ٹی ایس بی اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا پرندوں کے مسلسل ٹکرانے اور انجن کے اس طرح بیٹھ جانے یا ٹوٹنے میں کوئی براہ راست تعلق موجود ہے یا نہیں۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں کمرشل پروازوں کی سیکیورٹی اور کھڑکیوں کے معیار کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ مسافر بردار طیاروں کے حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی تجاویز دی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے خوفناک اور جان لیوا حادثات سے بچا جا سکے۔ رائن ایر اور متعلقہ حکام کی جانب سے اس واقعے کے بعد مزید حفاظتی اقدامات اٹھانے کا عندیہ دیا گیا ہے تاکہ مسافروں کا سفر محفوظ بنایا جا سکے۔