LIVE
Loading Breaking News...

ہسپتالوں میں شفاف قیمتیں اور شکایات کا ازالہ: پارلیمانی رپورٹ

News Image
پارلیمانی کمیٹی کی حالیہ رپورٹ میں ہسپتالوں کے بلوں میں شفافیت لانے اور مریضوں کے مسائل کے حل کے لیے موثر میکانزم بنانے کی زور دار سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق علاج معالجے کے اخراجات کو عام آدمی کی پہنچ میں لانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
صحت کے شعبے میں مریضوں کو پیش آنے والی مشکلات اور پرائیویٹ ہسپتالوں کی جانب سے وصول کیے جانے والے مبہم اور غیر واضح نرخوں کے خلاف ایک بار پھر آواز بلند ہو گئی ہے۔ عام طور پر مریضوں کے اہل خانہ کی طرف سے یہ شکایت عام ہوتی ہے کہ ہسپتال کے بلوں میں چھپے ہوئے اخراجات اور مہنگے داموں ادویات اور ٹیسٹ شامل ہوتے ہیں جس سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے علاج کرانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس معاملے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے ایک پارلیمانی پینل نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوری اصلاحات کی سفارش کی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کی اس تفصیلی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہسپتالوں میں علاج معالجے کی قیمتوں کا تعین انتہائی شفاف انداز میں کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ مریض یا اس کے لواحقین کو ہسپتال میں داخلے سے قبل ہی تمام ممکنہ اخراجات کا واضح تخمینہ فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ بعد میں کسی بھی قسم کی مالی پریشانی یا دھوکہ دہی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ، ایسے موثر شکایات کے ازالے کے نظام قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے جہاں مریض مہنگے بلوں یا علاج میں غفلت کے خلاف بلا جھجھک اپنی درخواست جمع کرا سکیں اور ان پر فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صحت جیسی بنیادی سہولت کو تجارتی منافع خوری سے پاک کرنے کے لیے حکومتی سطح پر ریگولیٹری باڈیز کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کے لیے یہ لازم قرار دیا جائے کہ وہ اپنے نرخ نامے نمایاں مقامات پر آویزاں کریں اور کسی بھی نئے ٹیسٹ یا طریقہ علاج سے پہلے مریض کی رضامندی کو یقینی بنایا جائے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمانی کمیٹی کی ان سفارشات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تو اس سے نہ صرف عام شہریوں کا استحصال رکے گا بلکہ پورے ملک میں طبی شعبے کا نظام بھی بہتر ہو سکے گا۔