LIVE
Loading Breaking News...

فیوچرسٹک ون ونگ طیارہ 2030 تک فضائی سفر میں انقلاب برپا کرے گا

News Image
آینده کے اس جدید ترین طیارے کا ڈیزائن ایکٹنگ رے (stingray) سے مشابہت رکھتا ہے جو روایتی طیاروں کے مقابلے میں پچاس فیصد کم اخراج کا باعث بنے گا۔ بغیر کھڑکیوں والے اس وسیع و عریض طیارے کو سال 2030 تک تجارتی خدمات میں شامل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایوی ایشن کی دنیا میں ایک انقلابی تبدیلی کی تیاری کی جا رہی ہے جہاں آنے والے چند برسوں میں بغیر کھڑکیوں والے اور ایک ہی پر پر مشتمل منفرد طیارے مسافروں کو نئی سفری سہولیات فراہم کریں گے۔ ان جدید طیاروں کا ڈیزائن روایتی طیاروں سے بالکل مختلف ہے جو دیکھنے میں کسی آبی مخلوق یا اسٹنگ رے کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔ اس نئے تصور کے تحت بنائے جانے والے طیارے نہ صرف ماحول دوست ہوں گے بلکہ مسافروں کے لیے اندرونی فضائے بسیط اور آرام دہ نشستوں کا انتظام بھی کیا گیا ہے تاکہ طویل سفر کو مزید سہل بنایا جا سکے۔ اس منصوبے کے پیش نظر تیار کیے جانے والے جیٹ زیرو زیڈ فور (JetZero Z4) کو خاص طور پر اس مقصد کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کاربن کے اخراج کو نصف یعنی پچاس فیصد تک کم کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اس قسم کے بلیو ونگ یا بلینڈڈ ونگ باڈی طیارے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان طیاروں کی ایروڈائنامک ساخت ہوا کے دباؤ کو کم کرتی ہے جس کی وجہ سے ایندھن کی بچت ہوتی ہے اور فضائی سفر کو زیادہ پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ان طیاروں میں مسافروں کے لیے کھڑکیاں موجود نہیں ہوں گی، تاہم اندرونی حصے میں جدید ترین ایل ای ڈی سکرینز اور ورچوئل مناظر کا استعمال کیا جائے گا تاکہ مسافروں کو باہر کا نظارہ مل سکے اور انہیں بند کمرے کا احساس نہ ہو۔ اس کے علاوہ کیبن کے اندر نشستیں روایتی مسافر طیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کشادہ ہوں گی، جس سے مسافروں کو پاؤں پھیلانے اور آرام کرنے کے لیے وافر جگہ ملے گی۔ صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق تمام تر تکنیکی اور حفاظتی مراحل کو عبور کرنے کے بعد اس طیارے کو سن 2030 تک باقاعدہ تجارتی پروازوں کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس پیشرفت کو ہوا بازی کی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل کے ہوائی اڈوں اور سفر کے طریقوں کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دے گا۔ دنیا بھر کی بڑی ایئر لائنز اور ایوی ایشن کمپنیاں اس ٹیکنالوجی میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں تاکہ مسافروں کو کم خرچ، آرام دہ اور ماحول دوست سفر کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ آنے والے دنوں میں اس پراجیکٹ کے مزید تجرباتی مراحل طے کیے جائیں گے جو اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ جدید وژن کتنی تیزی سے حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔