Business
ول گائیڈرا کی مہمان نوازی اور کسٹمر سروس سے متعلق اہم گفتگو
معروف ریسٹورانٹ انڈسٹری کے ماہر ول گائیڈرا نے صارفین کی ناراضگی دور کرنے اور انہیں دوبارہ راغب کرنے کے طریقوں پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے سائمن سینک سے سیکھے گئے اسباق اور مہمان نوازی کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے اثرات پر بھی کھل کر گفتگو کی ہے۔
ہر کاروبار کو کبھی نہ کبھی اپنے گاہکوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی بار گاہک ہمیشہ کے لیے روٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ تاہم، چند ہی ایسے کاروباری رہنما ہوتے ہیں جو جانتے ہیں کہ ان کھوئے ہوئے گاہکوں کو کس طرح دوبارہ اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ مشہور ریسٹورانٹ 'ایلیون میڈیسن پارک' کے نامور ماہر اور کتاب 'ان ریزنیبل ہاسپیٹلٹی' کے مصنف ول گائیڈرا نے حال ہی میں ایک تفصیلی انٹرویو کے دوران کسٹمر سروس کے ان گنت پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کس طرح بہترین سروس فراہم کر کے گاہکوں کے اندر موجود خدشات اور پریشانیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
گفتگو کے دوران ول گائیڈرا نے معروف مفکر اور مصنف سائمن سینک کے ساتھ اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے پبلک اسپنکنگ یا اسٹیج پر بات کرنے کے حوالے سے سائمن سے کیا اہم اسباق سیکھے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی محفل یا پلیٹ فارم پر بات کرتے وقت اپنے جذبے کو سچائی کے ساتھ پیش کرنا اور سامعین کے ساتھ گہرا تعلق استوار کرنا کتنا ضروری ہے۔ کاروباری دنیا میں کمیونیکیشن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیڈرشپ میں شفالی اور واضح گفتگو ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثرات پر بات کرتے ہوئے ول گائیڈرا نے مہمان نوازی کی صنعت کا خصوصی احاطہ کیا۔ انہوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا مصنوعی ذہانت اس شعبے کو نقصان پہنچائے گی یا پھر اس سے بہتری کی کوئی نئی راہیں کھلیں گی۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ ٹیکنالوجی اور اے آئی کے ذریعے بہت سے کام خودکار اور آسان ہو سکتے ہیں، لیکن انسانوں کے درمیان محبت، گرمجوشی اور خلوص پر مبنی جو رشتہ مہمان نوازی کی صنعت کی اصل روح ہے، اس کا متبادل کوئی ٹیکنالوجی فراہم نہیں کر سکتی۔ گاہکوں کو خاص ہونے کا احساس دلانا ہی اصل ہدف ہونا چاہیے۔