World
ہارورڈ یونیورسٹی اور چینی ملٹری جامعات کے تعلقات پر کانگریس کی رپورٹ
امریکی کانگریس کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی نے چین کے دفاعی اور فوجی اداروں سے وابستہ جامعات کے ساتھ مل کر درجنوں تحقیقات کیں۔ اس صورتحال نے امریکی تحقیقی اداروں کی سکیورٹی اور شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
امریکی کانگریس کی حالیہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نامور ہارورڈ یونیورسٹی نے مبینہ طور پر چین کے دفاعی اور فوجی صنعتی اداروں سے جڑی یونیورسٹیوں کے ساتھ اپنے تحقیقی اشتراک کا مناسب تحفظ نہیں کیا۔ اس انکشاف کے بعد امریکہ کے علمی و سیاسی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ اس اشتراک کے نتیجے میں حساس نوعیت کی ٹیکنالوجی اور معلومات کے غلط ہاتھوں میں جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا रहा ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان کئی مشترکہ تحقیقات اور مقالے سامنے آئے ہیں جن میں سے بعض کا تعلق براہ راست چینی فوج سے منسلک جامعات سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہارورڈ نے چینی اداروں کے ساتھ مل کر درجنوں ایسے مقالے شائع کیے جن میں ایسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا جو دفاعی نقطہ نظر سے انتہائی حساس ہو سکتے ہیں۔ امریکی قانون سازوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی یونیورسٹیوں کو غیر ملکی شراکت داریوں کے حوالے سے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی سلامتی اور تکنیکی برتری کو نقصان نہ پہنچے۔ کانگریس کی جانب سے اس معاملے کی مزید گہرائی سے جانچ پڑتال کا عندیہ دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس عمل میں امریکی فنڈز کا غلط استعمال تو نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ہارورڈ یونیورسٹی کے ترجمان اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ تحقیق کی آزادی اور بین الاقوامی تعاون کے اصولوں پر کاربند ہیں، تاہم قومی سلامتی کے قوانین کی پاسداری ان کی اولین ترجیح ہے۔ یونیورسٹی کے عہدیداروں کا اصرار ہے کہ تمام علمی سرگرمیاں ضابطے کے اندر کی گئیں۔ اس کے باوجود ناقدین کا ماننا ہے کہ تعلیمی اداروں اور چینی فوجی اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط پر سخت ضابطہ بندی اور نگرانی کی اشد ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے سے بچا جا سکے۔