LIVE
Loading Breaking News...

ماں کو بچی کو ہیئر ڈرائر سے جلا کر قتل کرنے پر سزا

News Image
برطانیہ کی ایک عدالت نے تین ماہ کی بچی ڈہلیا روز کو ہیئر ڈرائر سے جھلسانے اور قتل کرنے کے جرم میں ماں کورٹنی گارٹشور کو قید کی سزا سنا دی ہے۔ مجرمہ نے بچی کے سر اور جسم پر ہیئر ڈرائر کی مدد سے شدید گرمی پہنچائی تھی جس سے وہ جانبر نہ ہو سکی۔
برطانیہ میں ایک انتہائی ہولناک اور دل دہلا دینے والا عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے جہاں ایک عدالت نے تین ماہ کی معصوم بچی کو ہیئر ڈرائر کے ذریعے جلا کر ہلاک کرنے کے جرم میں اس کی ماں کو قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس افسوسناک واقعے نے پوری دنیا میں انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ہر طرف اس سفاکانہ فعل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عدالت میں پیش کی جانے والی تفصیلات کے مطابق اٹھائیس سالہ کورٹنی گارٹشور نامی خاتون نے اپنی تین ماہ کی ننھی بچی ڈہلیا روز کو اس بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ مجرمہ ماں نے ہیئر ڈرائر جیسے عام گھریلو آلے کا استعمال کرتے ہوئے معصوم بچی کے سر اور پورے جسم پر شدید اور مسلسل گرمی ڈالی۔ طبی رپورٹس اور تفتیشی افسران کے مطابق اس عمل سے بچی کو ناقابل برداشت تکلیف پہنچی اور اس کا نازک جسم شدید طور پر جھلس گیا۔ اس گھناؤنے فعل کے نتیجے میں معصوم ڈہلیا روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئی، جس سے ایک بار پھر بچوں کے حقوق اور گھریلو تشدد کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ عدالت نے شواہد کا بغور جائزہ لینے اور تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ماں کو اس جرم کا مرتکب قرار دیا اور سخت ترین قید کی سزا کا حکم صادر کیا۔ جج نے اپنے ریمارکس میں اس بات پر زور دیا کہ ایک ماں کی ذمہ داری اپنی اولاد کی حفاظت کرنا ہوتی ہے، لیکن یہاں اس کے برعکس ایک محافظ ہی سفاک قاتل بن گئی۔ اس اندوہناک واقعے نے معاشرے کے ہر طبقے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور ماہرینِ نفسیات نیز سماجی کارکنان نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقداماتن اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔