World
روس کے یوکرین میں ریلوے اور پورٹ تنصیبات پر حملے، کیف کا جوابی وار
روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین کی اہم ریلوے اور پورٹ تنصیبات کو اپنے تازہ حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب کیف نے بھی ڈرون حملوں کے ذریعے بالٹک آئل حب اور ماسکو کے قریب ایک گودام کو ہدف بنایا ہے۔
ماسکو: روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے یوکرین کی ریلوے لائنوں اور بندرگاہوں کی اہم تنصیبات پر فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔ روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں یوکرین کی عسکری اور رسد کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے کی گئیں، جن میں مخصوص اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ جنگ کے دوران انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کا یہ سلسلہ دونوں جانب سے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، یوکرین نے بھی روس کے اندر اہم اقتصادی اور عسکری مقامات پر جوابی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کیف نے بالٹک کے ایک بڑے آئل حب اور ماسکو کے قریب واقع ایک اہم گودام کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد روسی علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں اور فائر فائٹنگ ٹیمیں متاثرہ مقامات پر امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
یہ حالیہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مسلح تنازعہ اب کسی تعطل کا شکار نہیں بلکہ فریقین ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی رگوں کو کاٹنے کے درپے ہیں۔ یوکرین کی جانب سے روسی سرزمین کے اندر گہرائی میں جا کر ڈرون حملے کرنا اس کی نئی دفاعی اور جوابی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس نے ماسکو کے لیے بھی سیکورٹی کے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے کیونکہ اس طرح کے حملے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور سپلائی چین کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک فریقین کے درمیان کسی سنجیدہ سفارتی مذاکرات کا آغاز نہیں ہوتا، اس طرح کے تباہ کن حملے جاری رہنے کا خدشہ ہے۔