World
ویلجیوو احتجاج اور سربیا کی سیاسی صورتحال - نیکسورا نیوز
ریلوے اسٹیشن کے چھجے کے انہدام کے نتیجے میں سولہ افراد کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ یہ مظاہرے اب ایک وسیع سماجی تحریک کی شکل اختیار کر چکے ہیں جس سے سربیا کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔
سربیا کے شہر ویلجیوو میں ریلوے اسٹیشن کا چھجہ گرنے کے ہولناک واقعے کے بعد شروع ہونے والے طلبا احتجاج کو ایک سال پورا ہو گیا ہے۔ اس المناک حادثے میں سولہ افراد کی ہلاکت نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس کے بعد عام شہریوں اور خصوصاً طلبا میں شدید غم و غصہ پھیل گیا تھا۔ یہ احتجاج جو ابتدا میں محض غفلت برتنے والے ذمہ داران کے احتساب اور انصاف کے حصول کے لیے شروع کیا گیا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ ایک بڑی اور منظم سماجی تحریک میں تبدیل ہو چکا ہے۔
ابتدائی دنوں میں حکومتی حلقوں کی جانب سے اس تحریک کو دبانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم عوام کی بڑھتی ہوئی حمایت اور طلبا کے پرعزم مؤقف نے اسے ملک گیر تحریک بنا دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سربیا اس وقت تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ حکومت کو جہاں ایک طرف معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، وہیں دوسری طرف عوام کی جانب سے شفافیت، گڈ گورننس اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کے مطالبات بھی شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
اس ایک سال کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں، تعلیمی اداروں میں مباحثے ہوئے اور سول سوسائٹی نے کھل کر اس تحریک کی حمایت کی۔ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف ریلوے اسٹیشن حادثے کے اصل ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے بلکہ ملک کے نظام میں ایسی اصلاحات کی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادّاثات سے بچا جا سکے۔
سربیا کی حکومت پر اندرونی اور بیرونی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وسیع سماجی تحریک نے ملک کے سیاسی منظر نامے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت ان عوامی مطالبات سے کس طرح نبرد آزما ہوتی ہے۔ دریں اثنا، طلبا اور سماجی کارکنان اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے احتجاج کو پرامن طریقے سے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔