LIVE
Loading Breaking News...

مارک زکربرگ کا پرسنل سپر انٹیلی جنس وژن اور اس کے اثرات

News Image
میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ نے ایک تفصیلی مضمون میں ہر فرد کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی 'پرسنل سپر انٹیلی جنس' کا تصور پیش کیا ہے۔ یہ وژن اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح مرکزی سسٹمز کی بجائے اے آئی کو عام انسانوں کی بہتری کے لیے استعمال کیا جا सकता ہے۔
فیس بک اور میٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ نے حال ہی میں تقریباً ساڑھے چھ ہزار الفاظ پر مشتمل ایک تفصیلی مضمون شائع کیا ہے جس میں انہوں نے 'پرسنل سپر انٹیلی جنس' کا ایک انتہائی دلچسپ اور دور رس وژن پیش کیا ہے۔ اس تصور کے مطابق، مصنوعی ذہانت کو چند مخصوص اداروں یا افراد کے کنٹرول میں دینے کے بجائے ہر عام انسان کے لیے ایک ذاتی اور معاون ٹول کے طور پر تیار کیا جانا چاہیے تاکہ وہ روزمرہ کے امور میں اس سے استفادہ کر سکیں۔ مارک زکربرگ کا یہ خیال اس رجحان سے یکسر مختلف ہے جہاں اے آئی کو صرف بڑی صنعتوں میں آٹومیشن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے ملازمتوں کے خاتمے کا خدشہ رہتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانوں کی جگہ لینے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور بڑھانے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں مارک زکربرگ کے اس تازہ ترین مضمون کو ایک 'روشاک ٹیسٹ' قرار دیا جا رہا ہے، یعنی ہر شخص اور ماہر اسے اپنے اپنے زاویے اور نظریے کے مطابق دیکھ رہا ہے۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ میٹا کا مستقبل کی ٹیکنالوجی پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا ایک اور انداز ہے، جبکہ دوسرے اسے عام صارفین کے لیے زیادہ جمہوری اور دوستانہ اے آئی کی طرف ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے بلند بانگ دعوے مستقبل کے خطرات کو چھپانے کے لیے کیے جاتے ہیں، کیونکہ ذاتی سطح پر بھی سپر انٹیلی جنس کے اپنے سکیورٹی اور رازداری کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، یہ بات طے ہے کہ اس بحث نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل، اخلاقیات اور اس کی ملکیت کے حوالے سے ایک نئی فکری جنگ چھیڑ دی ہے۔ اس طویل مقالے میں مارک زکربرگ نے نہ صرف میٹا کے آنے والے پراجیکٹس کی جھلک دکھائی ہے بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ میٹا پہلے ہی اوپن سورس اے آئی ماڈلز کی حمایت میں پیش پیش رہا ہے اور اس نئے وژن کے ذریعے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی کمپنی عام آدمی کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ جیسے جیسے اے آئی کی دوڑ تیز ہو رہی ہے، مختلف بڑی ٹیک کمپنیاں اپنے اپنے ماڈلز اور نظریات کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔ مارک زکربرگ کا یہ 'پرسنل سپر انٹیلی جنس' کا تصور آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی کے مباحث کا محور رہے گا اور دیکھنا یہ ہوگا کہ عملی میدان میں اس پر کس حد تک عمل درآمد کیا جاتا ہے۔