Sports
لاس اینجلس لیکرز ٹیم ساڑے بارہ ارب ڈالر میں فروخت
مشہور باسکٹ بال ٹیم لاس اینجلس لیکرز کو ریکارڈ ساڑے بارہ ارب ڈالر میں فروخت کر دیا گیا ہے۔ اس تاریخی سودے کے بعد این بی اے کے ضابطے کے تحت فرنچائز کی منتقلی کے عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔
لاس اینجلس لیکرز کو امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اور ریکارڈ ساز سودے میں ساڑے بارہ ارب ڈالر میں فروخت کر دیا گیا ہے۔ کھیلوں کی دنیا میں اس بڑی تبدیلی نے شائقین اور مبصرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے، اور اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اس تاریخی معاہدے کے بعد ٹیم کے مستقبل میں کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی۔
دنیا بھر کی بڑی کھیلوں کی لیگز کی طرح نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن یعنی این بی اے کے پاس بھی کسی فرنچائز کی فروخت کے لیے انتہائی سخت اور واضح پروٹوکولز موجود ہیں۔ ان ضوابط کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ تمام مالیاتی معاملات شفاف ہوں، نئے مالکان لیگ کے معیار پر پورا اترتے ہوں اور ٹیم کا انتظام بہترین انداز میں چلایا جا سکے۔ اس ریکارڈ سودے کی منظوری کے لیے بھی این بی اے کے بورڈ آف گورنرز کی حتمی توثیق درکار ہوگی۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے اربوں ڈالر کے سودے اس بات کا ثبوت ہیں کہ کھیلوں کی صنعت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کی مالی قدر میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ لاس اینجلس لیکرز جیسی تاریخی فرنچائز کی اتنی بڑی قیمت میں فروخت نہ صرف اس ٹیم کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ پوری باسکٹ بال انڈسٹری کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی ثابت ہوگی۔
آنے والے دنوں میں این بی اے کی جانب سے اس منتقلی کے عمل کو باضابطہ طور پر مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔ شائقین اور سرمایہ کار دونوں ہی اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ نئے مالکان ٹیم کی بہتری کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں اور کیا لیکرز اپنی روایتی شان و شوکت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔