LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم شہباز شریف کا پانی کے مسئلے پر سخت بیان اور انڈس واٹر ٹریٹی

News Image
وزیراعظم پاکستان نے دریائے سندھ کے پانی اور ملکی حقوق پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اس بیان کے بعد خطے میں آبی مسائل اور سندھ طاس معاہدے پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے ایک حالیہ اور انتہائی اہم بیان میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ملک کے آبی وسائل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستان کے لیے ایک سرخ لیکیڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم کا یہ سخت موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں دریائے سندھ اور سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کے حوالے سے کشیدگی اور بحث میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے دفاع اور اپنے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کو ترجیح دی گئی ہے، تاہم امن کے اس پرامن جذبے اور خواہش کو ہرگز کمزوری یا مجبوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملکی مفادات کے خلاف کسی بھی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور آبی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیا۔ دوسری جانب، اس بیان کے بعد بھارتی اور علاقائی سیاسی حلقوں میں بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں مختلف رہنماؤں کی جانب سے اس تنازع پر اپنے اپنے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ سندھ طاس معاہدے اور پانی کی تقسیم کا معاملہ جنوبی ایشیا میں ہمیشہ سے ایک حساس ترین موضوع رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی ملک کی زرعی معیشت اور کروڑوں شہریوں کی بقا کے لیے ناگزیر ہے، اس لیے اس معاملے پر کسی بھی قسم کی غفلت یا کٹوتی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے اس عزم کے بعد ملکی سطح پر بھی عسکری اور سیاسی حلقوں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ آبی وسائل کی حفاظت کے لیے قومی سطح پر یکسوئی انتہائی ضروری ہے۔