LIVE
Loading Breaking News...

بٹوارہ 1947 فلم: لاہور کی حویلی اور لکھنؤ کے خاندان کی کہانی

News Image
سنی دیول اور پریتی زنٹا کی آنے والی پیریڈ ڈرامہ فلم 'بٹوارہ 1947' تقسیم ہند کے پس منظر میں انسانیت کے رشتوں کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ فلم محض مذہبی منافرت یا اتحاد سے ہٹ کر محبت اور انسانی جذبات کی انوکھی داستان پیش کرتی ہے۔
بالی ووڈ کے معروف اداکار سنی دیول اور اداکارہ پریتی زنٹا کی آنے والی نئی فلم 'بٹوارہ 1947' ان دنوں سنیما کے حلقوں میں خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس فلم کا مرکزی خیال لاہور کی ایک تاریخی حویلی اور لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے گرد گھومتا ہے، جو تقسیم ہند کے تلخ ایام میں ایک انوکھی جذباتی وابستگی میں بندھ جاتے ہیں۔ فلمی ناقدین کے مطابق، یہ کہانی برصغیر کی تقسیم کے دوران پیش آنے والے انسانی سانحات کے ساتھ ساتھ محبت اور اخوت کی انمٹ داستان بیان کرتی ہے۔ فلم کے مبصرین کا کہنا ہے کہ 'بٹوارہ 1947' روایتی ہندو مسلم کشمکش یا محض سیاسی محاذ آرائی سے ہٹ کر انسانیت کے بنیادی اصولوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ لاہور کی حویلی اور لکھنؤ کے اس خاندان کا پس منظر دونوں خطوں کی مشترکہ تہذیب اور ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔ فلم کے پروڈیوسرز اور ہدایت کار نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ تاریخی پس منظر کو پوری صداقت کے ساتھ پردہ سکرین پر پیش کیا جائے، تاکہ شائقین کو تقسیم کے دور کی اصل کیفیات کا اندازہ ہو سکے۔ اس پیریڈ ڈرامہ فلم سے وابستہ توقعات کافی بلند ہیں، جہاں سنی دیول اور پریتی زنٹا کی جوڑی ایک بار پھر سلور سکرین پر جلوہ گر ہو رہی ہے۔ فلمی تجزیہ کار اس پراجیکٹ کو محض ایک تفریحی سرگرمی کے بجائے تاریخی نوعیت کا حامل قرار دے رہے ہیں جو برصغیر کے مشترکہ ورثے کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ اگرچہ فلم کے حوالے سے مختلف تبصرے سامنے آ رہے ہیں، لیکن اس کا بنیادی موضوع یعنی انسانیت اور رواداری، ناظرین کے دلوں میں گھر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔