World
گلین رازیل کی جیل سے رہائی کی درخواست مسترد
ہائی کورٹ کے ججز نے پیرول بورڈ کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے جس میں گلین رازیل کو جیل سے رہا کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ مجرم پر اپنی اہلیہ کی لاش کو چھپانے اور قتل کا سنگین جرم ثابت ہوا تھا۔
برطانیہ میں ہائی کورٹ کے ججز نے پیرول بورڈ کے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس کے تحت ایک ایسے مجرم کو جیل سے رہا کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی جس نے اپنی اہلیہ کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو انتہائی چالاکی سے غائب کر دیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مجرم گلین رازیل معاشرے کے لیے تاحال خطرہ ہے اور اس کی رہائی کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔ عدالت کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب متعلقہ حکام اور متاثرہ خاندان کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ گلین رازیل کے مقدمے نے ملک بھر میں ایک طویل عرصے تک میڈیا کی توجہ حاصل کیے رکھی کیونکہ اس نے اپنے جرم کو چھپانے کے لیے انتہائی پیچیدہ حربے استعمال کیے تھے اور آج تک اپنی بیوی کی لاش کا کماحقہ سراغ نہیں مل سکا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، پیرول بورڈ کی سفارشات کے باوجود عدالتی سطح پر اس نوعیت کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتی کارروائی کے دوران ججز نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جب تک مجرم اپنے کیے پر مکمل ندامت کا اظہار نہیں کرتا اور جرم کے تمام حقائق اور لاش کا ٹھکانہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے نہیں لاتا، اس کی آزادی کو محفوظ نہیں بنایا جا सकता۔ اس تازہ ترین فیصلے کے بعد گلین رازیل کو مزید عرصے تک سلاخوں کے پیچھے ہی رہنا ہوگا، جبکہ مقتولہ کے لواحقین نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے انہیں انصاف کی کچھ امید بندھی ہے۔