Technology
باجی سری نواسن کا ملائیشیا کے فاریسٹ سٹی میں سوسائٹی بنانے کا تجربہ
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف شخصیت باجی سری نواسن نے امریکہ چھوڑ کر ملائیشیا کے ایک سو ارب ڈالر کے ویران شہر فاریسٹ سٹی میں ایک نئی سوسائٹی قائم کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، مقامی سطح پر تعاون اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ان کا یہ منفرد تجربہ مشکلات کا شکار ہو گیا۔
ٹیکنالوجی کے معروف مفکر اور سابق امریکی شخصیت باجی سری نواسن نے امریکہ کو خیرباد کہہ کر ملائیشیا کے ایک سو ارب ڈالر کے لاگت سے تیار کردہ مگر بڑی حد تک ویران شہر 'فاریسٹ سٹی' میں ایک نئی اور متبادل سوسائٹی تعمیر کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ انہوں نے یہاں اپنی 'نیٹ ورک سکول' کے نام سے ایک تجرباتی برادری کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد ایسے افراد کو اکٹھا کرنا تھا جو ٹیکنالوجی، جدید طرزِ زندگی اور مشترکہ نظریات کے حامل معاشرے میں رہنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اس پروجیکٹ کے تحت دنیا بھر سے مختلف افراد نے اس ویران شہر کا رخ کیا تاکہ روایتی ریاستوں سے ہٹ کر ایک ڈیجیٹل اور فکری لحاظ سے جڑے ہوئے معاشرے کی تشکیل کی جا سکے۔
تاہم، اس پُرامید اور بڑے پیمانے پر شروع کیے جانے والے پروجیکٹ کو مقامی سطح پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ملائیشیا کے اس عظیم الشان رئیل اسٹیٹ پروجیکٹ، جسے فاریسٹ سٹی کہا جاتا ہے، میں پہلے ہی سے سرمایہ کاری اور آبادی کے حوالے سے کئی چیلنجز درپیش تھے۔ باجی سری نواسن اور ان کے حامیوں کی طرف سے جب اس خطے میں نئی سوسائٹی بسانے کی کوشش کی گئی، تو مقامی انتظامیہ اور قوانین کی پیچیدگیوں نے اس راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کیں۔ مقامی حکام اور عوام کی جانب سے مطلوبہ تعاون نہ ملنے کی وجہ سے اس نیٹ ورک سکول اور کمیونٹی کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کے تجربات دنیا کے روایتی قانونی ڈھانچے اور ملکی خودمختاری کے اصولوں سے ٹکراتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا کامیاب ہونا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ فاریسٹ سٹی جو کہ پہلے ہی چینی سرمایہ کاری اور دیگر اقتصادی عوامل کی وجہ سے ایک سنسان شہر کا منظر پیش کر رہا تھا، باجی سری نواسن کی آمد کے بعد ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں آگیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں جسمانی طور پر اس طرح کی نئی سوسائٹیاں قائم کرنا صرف نظریاتی باتوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے لیے زمینی حقائق، ملکی قوانین اور مقامی ثقافت سے ہم آہنگی ناگزیر ہوتی ہے۔