LIVE
Loading Breaking News...

آر بی آئی کے نئے قرض وصولی اصول 2027 اور قرض داروں کے حقوق

News Image
ریزرو بینک آف انڈیا نے قرضوں کی وصولی کے لیے نئے اور سخت ضابطے متعارف کرائے ہیں جو سال 2027ء سے لاگو ہوں گے۔ ان نئے قوانین کا مقصد قرض داروں کو ہراساں کیے جانے سے بچانا اور وصولی کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے قرضوں کی وصولی کے حوالے سے نئے اور سخت ضابطوں کا اعلان کیا ہے جو آنے والے سالوں بالخصوص 2027ء تک قرض داروں کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ ان نئے اصولوں کا بنیادی مقصد بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ذریعے قرضوں کی وصولی کے دوران غیر ضروری دباؤ، ہراسانی اور نامناسب ہتھکنڈوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ ان پابندیوں کے نفاذ سے قرض داروں کو ذہنی سکون ملے گا اور وہ بینکوں کی جانب سے جارحانہ رویے سے محفوظ رہ سکیں گے۔ نئے قوانین کے تحت، وصولی کے ایجنٹس (Recovery Agents) کے کام کرنے کے اوقات کو محدود کر دیا گیا ہے اور ان کے رویے سے متعلق سخت ضابطہ اخلاق طے کیا گیا ہے۔ اب ایجنٹس صبح سویرے یا رات گئے قرض داروں سے رابطہ نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی ان پر ناجائز دباؤ ڈالا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل قرضوں کے معاملے میں موبائل فون یا دیگر آلات کو ناجائز طور پر لاک کرنے کے طریقوں کے خلاف بھی کڑے حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جس سے صارفین کی ڈیجیٹل پرائیویسی اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ تاہم، ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگرچہ مرکزی بینک کی جانب سے یہ قواعد و ضوابط انتہائی خوش آئند ہیں، لیکن تھرڈ پارٹی ریکوری ایجنٹس کی نگرانی ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ مالیاتی منڈی میں تمام ایجنسیوں کو ان نئے قوانین کا پابند بنانا اور ان پر سختی سے عمل درآمد کرانا ریگولیٹری اداروں کے لیے ایک کڑا امتحان ہوگا۔ اس کے باوجود، سال 2027ء تک نافذ ہونے والے یہ تبدیلیاں قرض لینے والوں کے لیے ایک نئی امید لے کر آئی ہیں جو مالیاتی نظام میں شفافیت اور انصاف کو فروغ دیں گی۔