LIVE
Loading Breaking News...

ایف اے اے کی نئی ائیر اسپیس ٹیکنالوجی اور اے آئی پر بھاری سرمایہ کاری

News Image
امریکی ایوی ایشن اتھارٹی فضائی مسابقت، تاخیر اور عملے کی کمی سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر 875 ملین ڈالر خرچ کرنے جارہی ہے۔ اس بڑی سرمایہ کاری کے باوجود بعض صنعت کار اور اندرونی حلقے اس نئے نظام کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔
امریکی وفاقی ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے ملک کے فضائی حدود کے نظام کو جدید بنانے کے لیے 875 ملین ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس خطیر رقم کا مقصد فضائی سفر میں بڑھتی ہوئی بھیڑ، مسافروں کی تاخیر اور ایئر ٹریفک کنٹرولرز کے عملے کی شدید کمی جیسے مسائل کا مؤثر حل تلاش کرنا ہے۔ ایجنسی اس مقصد کے لیے اب جدید مصنوعی ذہانت (AI) اور خودکار ٹیکنالوجیز کا سہارا لینے جا رہی ہے تاکہ فضائی راستوں کو زیادہ محفوظ اور منظم بنایا جا سکے۔ نئے نظام کے تحت پروازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کے لیے ایسے جدید الگورتھمز اور ڈیجیٹل ٹولز متعارف کروائے جائیں گے جو ڈیٹا کا فوری تجزیہ کر کے بہتر فیصلے کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے نہ صرف روزمرہ کی پروازوں کی تاخیر میں نمایاں کمی واقع ہوگی بلکہ مصروف ترین ائیرپورٹس پر دباؤ بھی کم کیا جا سکے گا۔ موجودہ روایتی نظام پر بڑھتے ہوئے بوجھ کے پیش نظر اس اپ گریڈ کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس ہوشربا سرمایہ کاری اور حکومتی عزم کے باوجود فضائی صنعت کے تمام حلقے اس تبدیلی پر خوش نہیں ہیں۔ بعض اندرونی ذرائع اور ماہرین نے اس نئی ٹیکنالوجی کے نفاذ اور اس کی افادیت پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان ناقدین کا کہنا ہے کہ انتہائی حساس فضائی امور میں مکمل طور پر مصنوعی ذہانت یا نئے ڈیجیٹل سسٹمز پر انحصار کرنا خطرے سے خالی نہیں ہو سکتا اور اس کے غیر متوقع نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ایف اے اے کے اعلیٰ حکام کا مؤقف ہے کہ وہ ناقدین کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی اور تکنیکی جانچ پڑتال کے سخت مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ جدید ٹیکنالوجی حقیقت میں زمینی حقائق اور فضائی ٹریفک کے چیلنجز سے احسن طریقے سے نبرد آزما ہو پاتی ہے یا نہیں۔