LIVE
Loading Breaking News...

بٹوارہ 1947 فلم کے ریویوز: سنی دیول اور شبانہ اعظمی کی تعریف

News Image
بالی ووڈ کی نئی پیشکش 'بٹوارہ 1947' پر ناظرین کی جانب سے ملے جلے تاثرات سامنے آئے ہیں، جہاں سینیئر اداکاروں کی پرفارمنس کو تو بہت پسند کیا گیا لیکن فلمی کہانی کو فرسودہ قرار دیا گیا۔ فلم میں سنی دیول اور شبانہ اعظمی کی شاندار اداکاری نے شائقین کے دل جیت لیے ہیں۔
بالی ووڈ کے نامور اداکاروں سنی دیول اور شبانہ اعظمی کی نئی فلم 'بٹوارہ 1947' سینما گھروں کی زینت بن چکی ہے اور اس پر سوشل میڈیا بالخصوص ایکس (ٹوئٹر) پر تبصروں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ فلم کے حوالے سے سامنے آنے والے زیادہ تر ابتدائی جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ مرکزی اداکاروں کی جاندار اداکاری نے ناظرین کے دل موہ لیے ہیں، تاہم فلم کی مجموعی کہانی اور اس کا بیانیہ آج کے دور کے حساب سے کچھ پرانا محسوس ہوتا ہے۔ ناظرین کا ماننا ہے کہ تقسیمِ ہند کے موضوع پر پہلے بھی کافی کام ہو چکا ہے، اس لیے اس فلم کی کہانی میں کوئی نیا پن دیکھنے کو نہیں ملا۔ فلم میں سنی دیول اور شبانہ اعظمی جیسی قدآور شخصیات کی موجودگی نے اس پروجیکٹ کا وزن کافی بڑھا دیا ہے۔ ناقدین اور مداحوں کا کہنا ہے کہ دونوں اداکاروں نے اپنے کرداروں کے ساتھ مکمل انصاف کیا ہے اور ان کے درمیان کے جذباتی لمحات ناظرین کو آب دیدہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سنی دیول ایک بار پھر اپنے روایتی طاقتور انداز میں نظر آئے ہیں جبکہ شبانہ اعظمی کی پختہ اداکاری نے کہانی میں جان ڈال دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہانی پر تنقید کے باوجود اداکاری کے شعبے میں اس فلم کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ واضح رہے کہ اس پراجیکٹ کے حوالے سے ریلیز سے پہلے بھی کافی چہ مگوئیاں تھیں اور اس کے مختلف پہلوؤں پر میڈیا میں بحث جاری تھی۔ اس فلم کی تاریخی پس منظر اور تقسیم کے تلخ حقائق سے جڑی کہانی نے ایک بار پھر سے پرانے زخموں اور یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ اسکرین پلے میں کچھ کمزوریاں موجود ہیں، لیکن اداکاروں کی زبردست پرفارمنس اس فلم کو دیکھنے کے لائق بناتی ہے اور بالی ووڈ کے شائقین کے لیے یہ ایک اہم سنیما تجربہ ثابت ہو رہی ہے۔