World
معذوری کے مہم جوؤں کا خود کشی میں معاونت کے بل میں تاخیر کا مطالبہ
معذوری کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ نگہداشت کے نظام میں اصلاحات کے بغیر خود کشی میں معاونت کا قانون بیمار اور معذور افراد کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے برنہم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بل کو فوری طور پر آگے بڑھانے کے بجائے اس پر نظرثانی کریں۔
معذوری کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکنوں اور مہم جوؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ خود کشی میں معاونت سے متعلق بل پر فوری عمل درآمد روکا جائے اور اس معاملے پر مزید غور کیا جائے۔ کارکنوں کا موقف ہے کہ اس طرح کے قوانین کو جلدی میں نافذ کرنا معاشرے کے کمزور طبقات بالخصوص بیمار اور معذور افراد کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سماجی اور طبی نگہداشت کے نظام میں گہرے مسائل موجود ہیں جنہیں درست کیے بغیر ایسے اقدامات کرنا زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
مہم جوؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب تک ملک میں معذور افراد کے لیے صحت اور نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک اس نوعیت کے حساس فیصلے کرنا ناانصافی ہوگی۔ ان کا خدشہ ہے کہ قانون میں مناسب تحفظ اور ضمانتوں کے فقدان کی وجہ سے کمزور افراد پر غیر ضروری دباؤ بڑھ سکتا ہے جس سے ان کی جانوں کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہو گا۔
دوسری جانب، اس بل کے حامیوں کا اپنا نکتہ نظر ہے جو ان اصولوں پر بحث کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ تاہم، معذوری کے حقوق کے دفاع کرنے والے حلقے اس بات پر بضد ہیں کہ قانون سازوں کو جلد بازی سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام بالخصوص برنہم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بل کے نفاذ کو معطل کریں تاکہ تمام متعلقہ فریقوں کے خدشات کو سنا جا سکے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔