LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے دور میں علم کا اشتراک: سر مارٹن سۆرل کی اہم پیشگوئی

News Image
نامور کاروباری شخصیت سر مارٹن سۆرل کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں معلومات کا تبادلہ سب سے اہم صلاحیت بن جائے گا۔ بل گیٹس کی طرح سۆرل کا بھی ماننا ہے کہ علم بانٹنے والے ہی آنے والے وقت کے اصل حکمران ہوں گے۔
مشہور اشتہاری اور کاروباری شخصیت سر مارٹن سۆرل نے مصنوعی ذہانت (AI) کے دور میں کامیابی کے لیے ایک انتہائی اہم مہارت کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے معروف مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کے اس دیرینہ موقف کی بھرپور تائید کی ہے جس کے مطابق معلومات اور علم جب آپس میں بانٹے جاتے ہیں تو اس کی طاقت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ سۆرل کا کہنا ہے کہ موجودہ اور آنے والے دور میں وہ لوگ اور ادارے سب سے زیادہ کامیاب ہوں گے جو اپنے پاس موجود معلومات کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ سر مارٹن سۆرل کے مطابق مصنوعی ذہانت نہ صرف روایتی کاروبار کرنے کے طریقوں کو یکسر بدل رہی ہے بلکہ یہ معلومات تک رسائی کو بھی انتہائی عام اور جمہوری بنا رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے کارپوریٹ اداروں کے روایتی درمیانی درجے کے ڈھانچے اور تنظیمی درجات کمزور ہوں گے، جس سے فیصلوں کا عمل تیز ہوگا۔ اس ماحول میں وہ افراد جو معلومات کو اپنے پاس قید رکھنے کے بجائے اسے کھلے دل سے بانٹتے ہیں، نئے دور کے اصل فاتح بن کر ابھریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اے آئی کے اس دور میں علم کی تقسیم ہی اصل طاقت بنے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر افرادی قوت کو بھی اپنی صلاحیتوں میں نمایاں تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ روایتی طور پر معلومات کو راز رکھنا یا اسے اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا اب پرانا طریقہ بن چکا ہے۔ اب وہ ملازمین اور قائدین زیادہ قابل قدر سمجھے جائیں گے جو ٹیم کے اندر معلومات کا درست اور بروقت تبادلہ یقینی بنا سکیں۔ اس پیشگوئی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مستقبل کا کارپوریٹ کلچر اشتراک عمل، شفافیت اور اجتماعی دانش پر منحصر ہوگا۔ سر مارٹن سۆرل اور بل گیٹس کا یہ مشترکہ نقطہ نظر دنیا بھر کے کاروباری رہنماؤں کے لیے ایک چشم کشا حیثیت رکھتا ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں اکیلے آگے بڑھنے کے بجائے ٹیم ورک اور علم کی ترویج ہی پائیدار کامیابی کی ضمانت ہے۔