LIVE
Loading Breaking News...

اینڈروائڈ مالویئر اور بینک کارڈ سکیورٹی خطرات

News Image
سکیورٹی محققین نے ایک خطرناک نئے اینڈروائڈ مالویئر کا پتہ لگایا ہے جو این ایف سی کے ذریعے لائیو کارڈ کا ڈیٹا چرا کر حملہ آوروں کو منتقل کرتا ہے۔ یہ نقصان دہ سافٹ ویئر مالیاتی فراڈ کے نئے اور خطرناک طریقوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
سکیورٹی ریسرچرز نے اینڈروائڈ صارفین کے لیے ایک انتہائی خطرناک نئے مالویئر کا انکشاف کیا ہے جو اسمارٹ فونز میں موجود این ایف سی (NFC) ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے صارفین کے بینک کارڈز کا ڈیٹا حقیقی وقت میں چوری کر سکتا ہے۔ گروپ آئی بی (Group-IB) کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق اس نئے مالویئر خاندان کا نام 'ونڈ ریلے' (WindRelay) رکھا گیا ہے، جسے خاص طور پر اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ وہ متاثرہ فون کے قریب موجود کانٹیکٹ لیس کارڈز کی معلومات حاصل کر کے فوری طور پر سائبر مجرموں تک پہنچا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید طریقہ کار روایتی ہیکنگ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس میں مجرموں کو فزیکل کارڈ کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ وہ دور بیٹھے ہی ڈیجیٹل سگنلز کے ذریعے لین دین کر سکتے ہیں۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ مالویئر مختلف پوشیدہ طریقوں سے اینڈروائڈ ڈیوائسز میں داخل ہوتا ہے اور بیک گراؤنڈ میں خاموشی سے اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے۔ جب صارف اپنے فون کو کسی ایسی جگہ استعمال کرتا ہے جہاں این ایف سی ٹیکنالوجی فعال ہوتی ہے، تو یہ مالویئر متحرک ہو جاتا ہے اور کارڈ میں موجود حساس معلومات کو کیپچر کر کے ریلے سرور کے ذریعے ہیکرز کو بھیج دیتا ہے۔ اس ڈیٹا کی مدد سے مجرم فوری طور پر متاثرہ شخص کے بینک اکاؤنٹ یا کریڈٹ کارڈ سے رقوم کی غیر قانونی منتقلی یا خریداری کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کے حملے عام طور پر پبلک ٹرانسپورٹ، شاپنگ مالز اور بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر زیادہ کارآمد ہوتے ہیں جہاں سگنلز کا تبادلہ عام بات ہے۔ سکیورٹی ماہرین نے اینڈروائڈ صارفین کو شدید خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے اسمارٹ فونز میں غیر مصدقہ ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں اور نامعلوم ذرائع سے موصول ہونے والی اے پی کے (APK) فائلز کو انسٹال نہ کریں۔ اس کے علاوہ، جب این ایف سی کا استعمال نہ ہو تو اسے فون کی سیٹنگز میں جا کر بند رکھنا اس خطرے سے بچنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ گوگل کی سکیورٹی ٹیمیں بھی اس نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے پلگ انز اور اپ ڈیٹس جاری کر رہی ہیں تاکہ صارفین کو اس مالویئر کے حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے، تاہم صارفین کی اپنی احتیاط اس سلسلے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔